بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد نام رکھنا


سوال

 میں نے اپنے بیٹے کا محمد نام رکھا ہے، کیا صرف محمد نام رکھنا صحیح ہے؟ میرا بیٹا 2 مہینے 20 دن کا ہے۔

سوال پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ پیدائش کے بعد 10 دن گھر پر رہا ہے،  باقی کے دن ہسپتال میں گزارے (1) غذا کی نالی اورسانس کی نالی کی سرجری (2) دل کی سرجری دل میں اسٹنٹ ڈلے (3) 10 دن تک بهت زیاده دست جس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھا (4) اور کافی زیاده روتا رہتا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچے کا نام سردارِ دو جہاں، سیدالاولین والآخرین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نام نامی پر رکھنے کو علماء کرام نے انتہائی مستحسن قرار دیا ہے، اور احادیث میں بھی اس نام کے فضائل وارد ہوئے ہیں، نیز جنابِ نبی کریم ﷺ نے بذاتِ خود کئی بچوں کا نام محمد رکھا ہے اور صلحاء امت کے ہاں بھی یہی تعامل رہا ہے، لہذا بچے کا نام محمد رکھنا باعثِ برکت وسعادت ہے، معاذ اللہ ان سعادتوں والے بابرکت نام سے بدشگونی کاوہم بھی نہیں ہونا چاہیے۔

نیز نام کے حوالے سے اتنی بات تو ہے کہ اچھے نام کا اچھا اثر ہوتا ہے اور برے نام کا برا اثر ہوتا ہے، لیکن ہر ہر نام کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا درست نہیں ہے،بالخصوص اچھے معانی اور سعادت والے ناموں سے اس طرح کی بدشگونی مراد لینا درست نہیں ہے۔

شرح مصابیح السنہ  للبغوی میں ہے:

"عن بريدة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتطير من شيء، فإذا بعث عاملا يسأل عن اسمه، فإذا أعجبه اسمه فرح به ورئي بشر ذلك في وجهه، وإن كره اسمه رئي كراهية ذلك في وجهه"، فالسنة أن يختار الإنسان لولده وخادمه الأسماء الحسنة، فإن الأسماء المكروهة قد توافق القدر، مثلا لو سمى أحد ابنه بـ (خسار) فربما جرى قضاء الله بأن يلحق بذلك المسمى به خسار، فيعتقد بعض الناس: أن ذلك بسبب اسمه فيتشاءمون به، ويحترزون عن مجالسته ومواصلته."

(كتاب الطب والرقى، ج:5، ص:122، ط: دار المعرفة)

صحیح البخاری میں ہے :

"عن جابر رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌تسموا ‌باسمي ولا تكتنوا بكنيتي)."

(كتاب المناقب، باب كنية النبي، ج:3، ص: 1301، ط: دار ابن كثير)

کنزالعمال میں ہے :

"ما ‌ضر ‌أحدكم ‌لو ‌كان ‌في ‌بيته ‌محمد ‌ومحمدان ‌وثلاثة، من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة."

(الباب السابع في بر الأولاد وحقوقهم، الفصل الأول في الأسماء و الكنى، ج: 16، ص: 419، ط: مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے :

"قال المناوي وعبد الله: أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، وأفضلها بعدهما محمد، ثم أحمد ثم إبراهيم."

(كتاب الحظر والإباحة، فرع يكره إعطاء السائل، ج:6، ص:417، ط:الحلبى)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100788

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں