
محمد کیف نام رکھنا کیسا ہے ؟کیا بچہ کا نام محمد کیف رکھ سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں عربی زبان میں کیف کے معنی "کسی چیز کی ہیئت، کیفیت اور حالت " ہے،جبکہ اردوو زبان میں یہ سرور کی حالت کے لیے بھی مستعمل ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں ان معانی کے اعتبار سے اگر چہ نام رکھنا جائز ہے لیکن مناسب اور بہتر یہی ہے کہ مذکورہ نام کے علاوہ صرف محمد نام رکھیں یا دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر بچے کا نام رکھیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."
(كتاب الكراهية، الباب الثالث والعشرون في الغيبة والحسد والنميمة والمدح، ج:5، ص: 362، ط: دار الفكر)
کتاب التعریفات میں ہے:
"الكيف: هيئة قارة في الشيء لا يقتضي قسمة ولا نسبة لذاته."
(باب: الكاف، ص: 188، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
القاموس الوحید میں ہے:
"الکیف: کیفیت، حال"
(کیف، ص: 1439، ط: ادارہ اسلامیات لاہور۔کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100856
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن