
1. احادیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اپنی اولاد یعنی بچوں کے نام انبیاء و صالحین کے ناموں پر رکھو، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنی اولاد کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھنے کی خاص فضیلتیں بھی علماء بیان فرماتے ہیں، جبکہ ایک حدیث علماء سے یہ بھی سنی کہ اللہ تعالی کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن بہت پسندیدہ ہیں، کیا کوئی مسلمان اپنی اولاد کا نام محمد عبداللہ یا محمد عبدالرحمن رکھے تو اسے محمد نام رکھنے کی جو فضیلت ہے وہ بھی حاصل ہوگی یا محمد نام کی فضیلت صرف محمد نام رکھنے سے ہی حاصل ہوگی ؟
2. بعض لوگوں کے نام صرف رحمان، غفار، غفور، جبار وغیرہ ہوتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ یا ان ناموں کے ساتھ عبد لگانا لازم اور ضروری ہے ؟
3. بعض لوگ قیامت کے دن ماں کے نام سے بھی اٹھائے جائیں گے، کیا یہ درست ہے؟
1. اگر کسی بچے کا نام "محمد عبد اللہ" یا "محمد عبد الرحمن" رکھا جائے تو یہ نام بہت خیر و برکت والا ہو گا، اور شروع میں "محمد" لگانے سے برکت بھی ہو گی، لیکن جو فضائل "محمد" نام رکھنےسے متعلق وارد ہوئے ہیں وہ اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب صرف "محمد"نام رکھا جائے۔
2. اللہ تعالیٰ کے جو صفاتی نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، ان میں عبد لگانا ضروری ہے، جیسے عبدالرحمٰن، عبدالرزاق، عبدالغفار وغیرہ، تاہم کچھ نام ایسے بھی ہیں جو "عبد" کے بغیر رکھے جا سکتے ہیں، جیسے رحیم اور رؤوف وغیرہ، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔
3. قیامت کے دن انسان کو اپنے نام اور اپنےباپ کے نام سے پکارا جائے گا، چنانچہ حدیث شریف ہے کہ "حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تم اپنے ناموں اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤگے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھا کرو۔"
ماں کے نام سے پکارنے کا کسی صحیح اور مستند روایت میں تذکرہ نہیں ملتا۔
کنز العمال میں ہے:
"45223- من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة. "الرافعي - عن أبي أمامة."
(الفصل الأول في الأسماء والكنى، ص:422، ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:"جس شخص نے پیدا ہونے والے بچہ کا نام محمد رکھا،میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام کے بابرکت ہونے کی وجہ سےوہ شخص اور اس کا پیدا ہونے والا بچہ جنتی ہے۔"
العرف الشذی میں ہے:
" وفي رواية في المعجم للطبراني: «من سمى ولده محمداً، أنا شفيعه». وصحّحها أحد من المحدثين وضعّفه آخر".
(کتاب الآداب، باب ما جاء یستحب من الأسماء، ج: 4، ص: 181، ط: دارإحیاء التراث العربي، بیروت)
سیرتِ حلبیہ میں ہے:
"وفي حديث معضل: «إذا كان يوم القيامة نادى منادٍ: يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب! فيقوم كل من اسمه محمد، يتوهم أن النداء له؛ فلكرامة محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون»"
(باب تسمیته ﷺ محمداً واحمد،ج: 1، ص: 121، ط: دارا لکتب العلمية)
ترجمہ: قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اےمحمد! اٹھیے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیے ، تو ہر وہ آدمی جس کا نام "محمد" ہوگا یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اسے کہا جارہا ہے وہ (جنت میں جانے کے لیے) کھڑا ہوجائے گا تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اِکرام میں انہیں جنت میں جانے سے نہیں روکا جائےگا۔
فیض القدیر میں ہے:
"(من ولد له ثلاثة أولاد فلم يسم أحدهم محمدا فقد جهل) أي فعل فعل أهل الجهل مع ما في ذلك من عظيم البركة التي فاتته وفي رواية لابن عساكر عن أبي أمامة مرفوعا من ولد له مولود فسماه محمدا تبركا به كان هو ومولوده في الجنة قال المؤلف في مختصر الموضوعات: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن."
(حرف الميم، ج:6، ص:237، ط:المكتبة التجارية)
تحفۃ المودود باحکام المولود میں ہے:
"ومما يمنع تسمية الإنسان به أسماء الرب تبارك وتعالى فلا يجوز التسمية بالأحد والصمد ولا بالخالق ولا بالرازق وكذلك سائر الأسماء المختصة بالرب تبارك وتعالى ولا تجوز تسمية الملوك بالقاهر والظاهر كما لا يجوز تسميتهم بالجبار والمتكبر والأول والآخر والباطن وعلام الغيوب ... وأما الأسماء التي تطلق عليه وعلى غيره كالسميع والبصير والرؤوف والرحيم فيجوز أن يخبر بمعانيها عن المخلوق ولا يجوز أن يتسمى بها على الإطلاق بحيث يطلق عليه كما يطلق على الرب تعالى."
(الباب الثامن في ذكر تسميته وأحكامها، الفصل الثاني فيما يستحب من الأسماء وما يكره منها، ص:125، 127، ط:مكتبة دار البيان)
حدیث شریف میں ہے:
"حدثنا عفان، حدثنا هشيم، أخبرنا داود بن عمرو، عن عبد الله بن أبي زكريا الخزاعي، عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم".
(مسند احمد، حديث أبي الدرداء رضی اللہ عنہ، ج: 36، صفحہ: 23، رقم الحدیث: 21693، ط: مؤسسة الرسالة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100381
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن