بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مُدینہ، کاملہ، صاحبہ، علیزہ، انیلا نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

کیا لڑکیوں کے مندرجہ ذیل نام رکھ سکتے ہیں: مُدینہ، کاملہ، صاحبہ، علیزہ، انیلا ؟

جواب

1.مُدَینہ دال کے فتحہ کے ساتھ"عربی زبان کا لفظ ہے ،مَدِینہ (ایک خاص شہر کا نام ہے) کی تصغیر ہے، جس کا معنی ہے’’چھوٹا سا شہر‘‘، مذکورہ لفظ معنی کے لحاظ سے نام کے لیے مناسب  نہیں ہے۔ اور مُدِینہ دال کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے قرض لینے اور قرض دینے والی، اس اعتبار سےبھی یہ نام رکھنا درست نہیں۔

2.کاملہ: عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے کامل ہونا، مکمل ہونا یہ نام رکھنا درست ہے ۔

3.صاحبہ :عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہے سہیلی مالکہ منتظمہ(صاحب کی مؤنث ہے) یہ نام رکھنا درست ہے۔(القاموس الوحید، ص: 911، ط: ادارہ اسلامیات لاہور)

4.’’علیزه‘‘ :   کا لفظ بعینہ نہیں مل سکا،  البتہ ’’علز‘‘  کے معنی عربی میں:  بے چین ہونا، حواس باختہ ہونا، ہلکا پن، اور  اندر ہی اندر  گھٹنے  کے ہیں۔  لہٰذا یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

5.انیلا : ہندی زبان کا لفظ ہے جو اردو میں استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہے ناتجربہ کار، نادان، بھولا، ناواقف، خام۔(فیروز اللغات، ص: 134)

لہذا یہ نام نہ رکھا جائے۔

 نام رکھنے کے سلسلہ میں اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ  لڑکی کا نام ازواج مطہرات،صحابیا ت رضی اللہ عنہن  یا کسی نیک خاتون کے نام پر رکھا جائے۔اچھے ناموں کے لیے ہماری ویب سائٹ اور ایپلی کیشن میں "اسلامی ناموں" کےعنوان سے  آپشن موجود ہے، جس میں سے آپ نام کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

لسان العرب میں ہے:

"ودِنْتُ الرجل: أَقرضْتُه ‌فهو ‌مَدِينٌ ومَديون. ابن سيده: دِنْتُ الرجلَ وأَدَنْته أَعطيته الدّين إِلى أجل"

(‌‌حرف النون، ‌‌فصل الدال المهملة، ج: 13، ص: 167، ط: ‌‌دار صادر - بيروت)

الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية:

"[كمل]

الكمال: التمام، وفيه ثلاث لغات: كمل، وكمل، وكمل. والكسر أردؤها. وتكامل، وأكملته أنا. ورجل كامل وقوم كملة، مثل حافد وحفدة. ويقال: أعطه هذا المال كملا، أي كله. وكامل: اسم فرس زيد الخيل. والتكميل والإكمال: الإتمام. واستكمله: استتمه."

(‌‌فصل الكاف، ج: 5، ص: 1813، ط:دار العلم للملايين - بيروت)

تاج العروس میں ہے:

"‌‌صحب:

(صحبه كسمعه) يصحبه (صحابة) بالفتح (ويكسر وصحبة) بالضم كصاحبه: (عاشره) . والصاحب: المعاشر، لا يتعدى تعدى الفعل يعني أنك لا تقول: زيد صاحب عمرا لأنهم إنما استعملوه استعمال الأسماء، نحو غلام زيد. ولو استعملوه استعمال الصفة لقالوا: زيد صاحب عمرا، وزيد صاحب عمر وعلى إرادة التنوين، كما تقول: زيد ضارب عمرا، وزيد ضارب عمرو. تريد بغيره التنوين ما تريد بالتنوين."

(فصل الصاد المهملة، ج: 3، ص: 185، ط: دار إحياء التراث)

وفیہ ایضا:

"علز:

العلز، محركة: قلق وخفة وهلع وضجر واضطراب وشبه رعدة يصيب المريض والأسير، تقول: على علز بين الشراسيف، وعضاض قيد يمنع من الرسيف، كذا يصيب الحريص على الشيء كأنه لا يستقر مكانه من الوجع. قد يوصف به المحتضر فيقال: هو في علز الموت، أي في قلقه وكربه."

(فصل العين مع الزاي، ج: 15، ص: 242، ط: دار إحياء التراث)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں