
حضرات فقہائے کرام رحمہم اللہ اجمعین نے عام املاک میں پندرہ (15) سال تک دعویٰ کو مسموع قرار دیا ہے، جبکہ اوقاف اور میراث میں سماعِ دعویٰ کو چھتیس (36) سال تک معتبر ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص مدتِ مذکورہ کے اندر بغیر کسی شرعی عذر کے دعویٰ مؤخر کر دے تو اس مدت کے گزرنے کے بعد قاضی مدعی کا دعویٰ نہیں سنے گا، بشرطیکہ مدعا علیہ منکر ہو۔ البتہ اگر مدعا علیہ مقر ہو تو دعویٰ سنا جائے گا۔ نیز مدتِ مذکورہ کے اندر ہر حال میں دعویٰ مسموع ہوگا، یعنی جب بھی مدعی اس مدت کے دوران دعویٰ کرے گا تو اس کا دعویٰ سنا جائے گا۔
لیکن حاشیہ ابن عابدین میں علامہ شامی رحمہ اللہ نے مدت کے اندر سماعِ دعویٰ کو بھی ایک شرط کے ساتھ مقید فرمایا ہے، اور وہ یہ کہ اس مدت کے اندر کوئی ایسا مانع موجود نہ ہو جو بظاہر مدعی کے حق میں مانع بنے۔ اگر کوئی ایسا مانع پایا جائے تو اس مدت کے اندر بھی اس کا دعویٰ مسموع نہ ہوگا۔ علامہ شامی رحمہ اللہ کے اس موقف کو علامہ خالد الاتاسی رحمہ اللہ نے شرح المجلہ میں طویل بحث کے بعد مرجوح قرار دیا ہے اور اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سکوت کی تین صورتیں ذکر کی ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی قریبی رشتہ دار یا زوجہ مبیع کے بیچنے اور تسلیم کیے جانے پر مطلع ہو جائے اور وہ اس مبیع میں اپنے حق کا دعویٰ نہ کرے تو اس کا بعد کا دعویٰ مسموع نہ ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی اجنبی شخص، اگرچہ وہ جارِ متصل ہی کیوں نہ ہو، بائع کے مبیع کو فروخت کرنے اور تسلیم کرنے پر مطلع ہو جائے اور خاموش رہے تو محض اس خاموشی سے حقِ دعویٰ ساقط نہیں ہوگا، تا وقتیکہ مشتری اس مبیع میں کچھ مدت تک تصرف نہ کر لے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مدتِ طویلہ تک دعویٰ سے خاموش رہنا، خواہ وہ مشتری کے تصرف سے واقف ہو یا نہ ہو۔ علامہ خالد الاتاسی رحمہ اللہ نے اس تیسری صورت میں علامہ شامی رحمہ اللہ کے موقف کو مرجوح قرار دیا ہے۔
عباراتِ فقہاء بھی اس بارے میں مذکور ہیں۔ علامہ شامی رحمہ اللہ نے (فتاویٰ شامی، ج 8، ص 13، بعنوان: باع عقاراً واحد أقاربه حاضر لا تسمع دعواه) میں لکھا ہے:"الثامن: سماع الدعوى قبل مضي المدة المحدودة مقيد بما إذا لم يمنع منه مانع آخر يدل على عدم الحق ظاهراً لما سيأتي في مسائل شتى آخر الكتاب."
اور شرح المجلہ (علامہ خالد الاتاسی، ج 5، ص 148-149، تحت المادة 1659) میں ہے: "والحاصل أن المصرح به عند السكوت المانع من سماع الدعوى على ما عليه الفتوى ثلاثة أنواع."
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں دریافت طلب امور یہ ہیں کہ سکوت کی مذکورہ تینوں صورتوں میں باہمی فرق کیا ہے؟
پہلی اور دوسری صورت تو واضح ہیں، البتہ تیسری صورت میں اشکال یہ ہے کہ اگر وہ مطلق ہے، یعنی بیع اور دیگر تمام معاملات کو شامل ہے، تو پھر پہلی دو صورتوں اور تیسری صورت میں کیا امتیاز باقی رہتا ہے؟
اور اگر وہ مطلق نہیں بلکہ کسی خاص صورت پر محمول ہے تو اس کی وضاحت فرمائی جائے تاکہ اس کا فرق واضح ہو جائے۔
مزید یہ کہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ اور علامہ خالد الاتاسی رحمہ اللہ کے مابین اختلاف تینوں صورتوں میں ہے یا صرف تیسری صورت میں؟
نیز مفتیٰ بہ قول علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کا ہے یا علامہ خالد الاتاسی رحمہ اللہ کی بیان کردہ تفصیل کا؟
اور تیسری صورت میں سکوت سے مراد جو مدتِ طویلہ ہے، اس کا تعین کتنے سال سے کیا جائے گا، یعنی کس مدت تک سکوت کو مدعی کے حق میں عدمِ سماعِ دعویٰ کا سبب قرار دیا جائے گا؟
1- سکوت کی تینوں صورتیں صرف بیع کے ساتھ خاص نہیں ہیں، بلکہ ہر اس عقد کو شامل ہیں جس میں خروج عن الملک (یعنی ملکیت سے کسی شے کا نکل جانا) پایا جائے، جیسے بیع، وقف، ہبہ اور صدقہ بعد از تسلیم۔
باقی ان تینوں صورتوں میں فرق کیا ہے؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سکوت کی پہلی صورت میں صرف بیع کے وقت خاموشی اختیار کرنا سماعِ دعویٰ سے مانع ہے، کیوں کہ قریبی رشتہ دار میں فاسد خواہشات (یعنی ناجائز طمع) کا غالب ہونا زیادہ ہوتا ہے، لہٰذا اس میں تلبیس (دھوکہ دہی) کا امکان بھی زیادہ قوی سمجھا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری صورت میں محض بیع کے وقت خاموش رہنا سماعِ دعویٰ سے مانع نہیں ہے، کیوں کہ اجنبی شخص کا کسی غیر کے مال میں طمع رکھنا بہت کم ہوتا ہے، اس لیے وہاں جھوٹ یا تلبیس کے پہلو کو ترجیح دینے کے لیے کسی مرجِّح کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ خریدار اس مال میں کچھ مدت تک تصرف کرے اور مدعی اس پر مطلع ہونے کے باوجود دعویٰ سے خاموش رہے۔ اب اس کا دعویٰ سے خاموش رہنا اس بات کا اقرار شمار ہوگا کہ مذکورہ چیز اس کی ملکیت نہیں ہے۔
نیز سکوت کی پہلی اور تیسری صورت میں فرق واضح ہے، کیوں کہ پہلی صورت میں قریبی رشتہ دار کا بیع کے وقت ملکیت کے دعویٰ سے خاموش رہنا ہی سماعِ دعویٰ سے مانع ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا، جبکہ تیسری صورت میں مدتِ طویلہ (جس کا ذکر بعد میں آئے گا) تک دعویٰ سے خاموش رہنا شرط ہے۔
باقی دوسری اور تیسری صورت میں فرق یہ ہے کہ دوسری صورت میں تصرفِ مشتری پر مطلع ہونے تک دعویٰ سنا جا سکتا ہے، اس پر کوئی مدت مقرر نہیں، جبکہ تیسری صورت میں مدتِ طویلہ کی قید ضروری ہے۔
(2) علامہ ابن عابدین (صاحبِ شامی) اور دیگر فقہاء کے درمیان اختلاف کی نوعیت یہ ہے کہ آیا مدتِ مقررہ (15 یا 36 سال) کے اندر بھی محض خاموشی سے دعویٰ ساقط ہو سکتا ہے یا نہیں؟
علامہ خالد الاتاسی رحمہ اللہ اور مجلہ کے شارحین نے اس کی تفصیل بیان کی ہے کہ فتویٰ تین اقسام پر ہے، جن میں سے پہلی دو (رشتہ دار کا سکوت اور اجنبی کا علمِ تصرف کے ساتھ سکوت) میں دعویٰ ساقط ہو جاتا ہے۔
علامہ شامی نے جو قید ذکر فرمائی ہے کہ:اس مدت کے اندر کوئی ایسا مانع موجود نہ ہو جو بظاہر مدعی کے حق میں مانع بنے، اور اگر کوئی ایسا مانع پایا جائے تو اس مدت کے اندر بھی اس کا دعویٰ مسموع نہ ہوگا۔
نیز مفتیٰ بہ قول علامہ خالد الاتاسی کی بیان کردہ تفصیل ہی ہے، جو مجلہ کی دفعہ 1659 میں درج ہے، جس میں رشتہ دار اور اجنبی کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔
علامہ شامی نے بھی خود اپنے حاشیے میں ان تفاصیل کی تائید کی ہے اور انہیں تزویر (دھوکہ دہی) کے سدِ باب کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
(3) امام سرخسی نے المبسوط میں اسے 33 سال بیان کیا ہے،بعض متاخرین فقہاء نے اسے 30 سال قرار دیا ہے کیونکہ یہ مختلف روایات کے درمیان متوسط مدت ہے۔
حضرات فقہائے کرام رحمہم اللہ اجمعین اور مجلہ الاحکام العدلیہ کے مطابق عام املاک، قرض، ودیعت اور میراث (وراثت) میں دعویٰ مسموع ہونے کی مدت پندرہ (15) سال مقرر ہے ۔ البتہ اصلِ وقف (یعنی جائیداد کے وقف ہونے یا نہ ہونے) کے دعویٰ کے لیے یہ مدت چھتیس (36) سال معتبر ٹھہرائی گئی ہے ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ان مدتوں کے گزرنے تک بغیر کسی شرعی عذر کے دعویٰ مؤخر کر دے، تو قاضی مدعی کا دعویٰ نہیں سنے گا۔
درر الحكام في شرح مجلۃالأحكام میں ہے:
"البيع ليس هذا التعبير احترازا من الهبة والتسليم أو التصدق والتسليم كما بينه رد المحتار كما أنه ليس احترازا من الوقف أيضا. مثلا إذا كان أحد أقارب الواهب أو زوجها أو زوجته حاضرا وقت الهبة والتسليم وسكت فلا تسمع دعواهم بعد ذلك مطلقا."
(المادة :1659،ج:4،ص:289،ط:دار الجيل)
فتاوی شامی میں ہے:
"(باع عقارا إلخ) وكذا لو وهب أو تصدق وسلم وقيد بالبيع إذ لو أجر أو رهن، أو أعاد ثم ادعى الحاضر تسمع، إذ ليس من لوازم ذلك الخروج عن الملك، وقد يرضى الشخص بالانتفاع بملكه، ولا يرضى بالخروج عن ملكه،...أقول: ومثل البيع الوقف كما أفتى به الشهاب الشلبي."
(ج:6، ص:742، ط:سعید)
شرح المجلہ لرستم بازمیں ہے:
"وبهذا يظهر الفرق بين القريب والأجنبي ولو كان ذلك الأجنبي جاراً كما قدمنا قال الرملي الذي ظهر لي في الفرق أن الأطماع الفاسدة في القريب اغلب فمظنه التلبيس فيه أرجح ولذلك غلب في الأقرباء خصوصاً في دعوى الإرث لسهولة اثباته بخلاف الأجنبي فإن طمعه في مال من هو أجنبي عنه نادر فلا بد من مرجح يرجح جهة التزوير وهي أن يتصرف فيه المشتري زمانا كذا في رد المحتار وقد ظهر من كلام الرملي والتنوير ومن مآل هذه المادة أيضا أن عدم سماع دعوى الأجنبي مع اطلاعه على التصرف غير مقيد بمدة وهو الصحيح."
(المادہ 1659، ص:980، ط:الأدبیة۔بیروت)
شرح المجلۃللأتاسی میں ہے:
"التاسع :ان قوله وان كان من الأجانب إلى آخر المادة ۔ظاهر في أن عدم سماع دعوى الأجنبي ولو جارا مشروط بسكوتين سكوت حالة حضوره البيع وسكوت حالة اطلاعه على تصرف المشتري زمانا فسكوته في إحدى الجالتين المذكورتين فقط ، لا يمنعه من سماع الدعوى وهذا ما تعطيه عبارة التنوير المارة ومثلها عبادة الكنز والملتقى وسائر الشروح والفتاوي .
قال في الغنية : باع ارضا وسلمها إلى المشتري وتصرف فيها مدة زرعاً وبناء ، وجاره ساكت ثم الآن يدعي أنها ملكه ، لا تسمع دعواه إن كان حاضراً وقت البيع والتسليم وساكتا وقت تصرف المشتري قيل له فلو لم يتصرف فيها المشتري - ولكن كان ساكتا وقت البيع والتسليم قال لا تسقط دعوى الجار بهذا القدر - بخلاف ما اختاره المتأخرون فيما إذا باع وسلم وولده أو زوجته حاضرة ساكنة حيث تسقط بهذا القدر دعواهما.
لكن استظهر العلامة إبن عابدين في كتابيه رد المحتار وتنقيح الحامدية أن السكوت عند البيع والتسليم مانع من سماع دعوى الزوجة والقريب - وأما السكوت عند التصرف بقيد البيع والتسليم ، فيمنع من سماع الدعوى مطلقا سواء كان قريبا أو أجنبيا واستدل لذلك بما في جامع الفتاوي من الخلاصة : رجل تصرف في أرض زمانا ورجل آخر يرى تصرفه فيها ثم مات المتصرف ولم يدع الرجل حال حياته لا تسمع دعواه بعد وفاته.
وبما في الولوالجية رجل تصرف زمانا في أرض ورجل آخر يرى الأرض والتصرف ولم يدع ومات على ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوى ولده فتترك على يد المتصرف .
قال في التنقيح : إن ما في الولواحية والخلاصة، يدل على أن البيع غير قيد بالنسبة إلى الأجنبي ولو جاراً بل مجرد الإطلاع على التصرف، مانع من الدعوى - وانما فائدة التقييد بالبيع هي الفرق بين القريب والاجنبي فإن القريب للبايع لا تسمع دعواه إذا سكت عند البیع -فان القريب للبايع لا تسمع دعواه اذا سكت عند البيع – بخلاف الاجنبي فانه لا تسمع دعواه اذا اطلع على تصرف المشتري وسكت فالمانع لدعواه عند الاطلاع على التصرف لا السكوت عند البيع فلأجل الفرق بينها صور المسئلة بالبيع اه - واستدلاله هذا يقتضى أن السكوت عند التصرف مانع من سماع دعوى كل من القريب والأجنبي وإن لم يسبقه بيع وأنه لو سبقه بيع فلم يسكت الحاضر - بل اعترض وقال هذا ملكي ولا أرضى ببيعه ثم تصرف المشتري في المبيع وهو مطلع فسكت لا تسمع دعواه لأن مناط المنع السكوت عند الإطلاع على التصرف وقد حصل ولي في هذا الإستظهار نظر من وجوه أولها: أن من القواعد المقررة انه لا ينسب لساكت قول كما في الأشباه.واستثنى منها ثلاثين مسئلة منها قوله الرابعة والعشرون سكوته عند بيع زوجته أو قريبه عقاراً ، اقرار بأنه ليس له على ما أفتی به مشایخ سمرقند خلافا لمشايخ بخارى.الخامسةوالعشرون رآه يبيع أرضا او دارا فتصرف المشتري زمانا وهو ساكت تسقط دعواه. قال شارحها الحموي: هذا الفرع فيه عما قبله زيادة تصرف المشتري بعد الشراء زمانا وهو ساكت وهو قيد في الآجنبي لا في الزوجة والقريب.
وقد سمعت التصريح بذلك عن تنوير الأبصار والقنية وغيرهما فلو كان مجرد السكوت عند التصرف مانعا من دعوى الساكت ، لما قيد التصرف بكونه مسبوقا بالسكوت عند البيع بل كان اطلق وجعل مجرد الإطلاع على التصرف من المسائل المستثناة فتقرر بهذا المستثنى من القاعدة سكوت الزوجة أو القريب عند البيع وسكوت الأجنبي ولو جاراً عند كل من البيع والتصرف فبقي السكوت عند التصرف وحده داخلا تحت عموم القاعدة غير مستثنى منها."
(المادة:1659، ص:162۔160 ،ج:5، ط:رشیدیة)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"وإن كان من الأجانب سواء كان أولئك الأجانب من الجيران أو من غيرهم فلا يكون حضوره وسكوته في مجلس البيع فقط مانعا من سماع دعواه أي بعد علمه بالبيع والتسليم أما إذا تصرف المشتري في ذلك الملك بعد حضوره وسكوته في مجلس البيع بلا عذر تصرف الملاك بناءوهدما كهدم الحائط أو غرسا ورآه الحاضر وسكت بلا عذر ثم ادعى بعد ذلك بقوله هذا ملكي أو أن لي فيه كذا حصة فلا تسمع دعواه ولو أن مدة التصرف لم تبلغ حد مرور الزمن."
(المادة :1659،ج:4،ص:290،ط:دار الجيل)
الموسوعۃ الفقہیہ الكویتیہ میں ہے:
"واختلف فقهاء الحنفية في تعيين المدة التي لا تسمع بعدها الدعوى في الوقف، ومال اليتيم، والغائب، والإرث، فجعلها بعضهم ستا وثلاثين سنة، وبعضهم ثلاثا وثلاثين، وبعضهم ثلاثين فقط...فيما سوى ذلك جعلها خمس عشرة سنة فقط."
(حرف الزاء،ج:24،ص:10،ط:طبع الوزارة)
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"(سئل) فيما إذا كان بيد زيد عقار متصرف فيه تصرف الملاك من مدة تزيد على أربعين سنة بلا معارض ولا منازع وعمرو مطلع على تصرفه المذكور ولم يدع بذلك على زيد ولا منعه من الدعوى مانع شرعي فهل لا تسمع دعواه بعد ذلك على زيد ولا دعوى وارثه من بعده ويترك في يد المتصرف؛ لأن الحال شاهد؟
(الجواب) : نعم قال في جامع الفتاوى وقال المتأخرون من أهل الفتوى لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا وليس لهما ولي أو المدعى عليه أميرا جائرا يخاف منه كذا في الفتاوى العتابية وقال في البحر عن المبسوط ترك الدعوى ثلاثا وثلاثين سنة ولم يكن مانع من الدعوى ثم ادعى لا تسمع دعواه؛ لأن ترك الدعوى مع التمكن يدل على عدم الحق ظاهرا ."
(كتاب الدعوى، ج:2، ص:3، ط:دار الجیل)
وفیہ اَیضاً:
"وكذا لو مات المدعي لا تسمع دعوى ورثته كما مر عن الولوالجية والظاهر أن الموت ليس بقيد وأنه لا تقدير بمدة مع الاطلاع على التصرف لما ذكره في تنوير الأبصار وشرحه الدر المختار في مسائل شتى آخر الكتاب باع عقارا أو حيوانا أو ثوبا وابنه أو امرأته أو غيرهما من أقاربه حاضر يعلم به ثم ادعى الابن مثلا أنه ملكه لا تسمع دعواه كذا أطلقه في الكنز والملتقى وجعل سكوته كالإفصاح قطعا للتزوير والحيل بخلاف الأجنبي فإن سكوته ولو جارا لا يكون رضا إلا إذا سكت الجار وقت البيع والتسليم وتصرف المشتري فيه زرعا وبناء فحينئذ لا تسمع دعواه على ما عليه الفتوى قطعا للأطماع الفاسدة اهـ وقوله لا تسمع دعواه أي دعوى الأجنبي ولو جارا كما في حاشية الخير الرملي على المنح وأطال في تحقيقه في فتاويه الخيرية من كتاب الدعوى فقد جعلوا في هذه المسألة مجرد السكوت عند البيع مانعا من دعوى القريب ونحوه كالزوجة بلا تقييد باطلاع على تصرف المشتري كما أطلقه في الكنز والملتقى."
(كتاب الدعوى، ج:2، ص:4، ط:دار المعرفة)
درر الحكام في شرح مجلۃالأحكام میں ہے:
"فإذا كان ذلك الشخص من أقارب البائع أو زوجها أو زوجته فلا تسمع دعواه مطلقا فيما إذا لم يقر المدعى عليه سواء تصرف المشتري في المبيع تصرف الملاك أو لم يتصرف؛ لأنه قد عد الحضور عند البيع وترك المنازعة أثناء ذلك إقرارا دلالة بأن ذلك المال هو ملك البائع وحيث وجد أن أهل العصر يميلون إلى الإضرار بالناس فقد قصد بذلك وضع حائل بين الأطماع الفاسدة (النتيجة) . أما إذا أقر المدعى عليه بأن المال المذكور هو مال المدعي وادعى أن مجرد وجود المدعي وقت البيع وسكوته قد أسقط حقه في المال المذكور فلا يسمع دفع المدعى عليه هذا بل يلزم بإقراره. انظر المادة (1653) . لم أر من بين درجة القرابة؟ ومن هم المقصودون من الأقارب أو وضح ذلك؛ إلا أن شرح التنوير بين أن الأقارب مثلا كالابن، وذكر المحشي على التنوير أن غير الابن من الأقارب هو كالابن كما أن الخيرية قد ذكرت في قسم البيع بأن العم هو في هذا الحكم. فإذا كانت كلمة الأقارب تشمل في هذه المسألة العم فلا شك بأن الأقارب الذين هم أقرب قرابة العم كالأب والأم والأخ والأخت يكون حكمهم حكم العم."
(الكتاب الرابع عشر الدعوى، الباب الأول في شروط الدعوى وأحكامها، الفصل الرابع، ج:4، ص:290، المادة: 1659، ط:دار الجيل)
تکملہ حاشیۃ ابن عابدین میں ہے:
"أقول: وعلى هذا لو ادعى على آخر دارا مثلا وكان المدعى عليه متصرفا فيها هدما وبناء أو مدة ثلاثين سنة، وسواء فيه الوقف والملك ولو بلا نهي سلطاني، أو خمس عشرة سنة ولو بلا هدم وبناء فيهما، والمدعى مطلع على التصرف في الصور الثلاث مشاهد له في بلدة واحدة، ولم يدع ولم يمنعه من الدعوى مانع شرعي لا تسمع دعواه عليه.
أما الاول: فاطلاعه على تصرفه هدما وبناء وسكوته، وهو مانع من الدعوى كما عرفت.
وأما الثاني: فلتركه الدعوى للمدة المزبورة وسكوته، وهو دليل على عدم الحق له، ولان صحة الدعوى شرط لصحة القضاء والمنع منه حكم اجتهادي كما علمت."
(كتاب الدعوى، باب التحالف، ج:8، ص:98، ط:دار الفكر)
درر الحكام في شرح مجلۃالأحكام میں ہے:
"لا تسمع الدعاوى غير العائدة لأصل الوقف أو للعموم كالدين ولو كان دية الوديعة والعارية والعقار الملك والملك الذي لم يكن عقارا كالحيوان والأمتعة الأخرى والميراث والقصاص والمقاطعة في العقارات الموقوفة ودعوى التصرف بالمقاطعة ودعوى التصرف بالإجارتين والتولية المشروطة والغلة بعد أن تركت خمس عشرة سنة."
(الكتاب الرابع عشر الدعوى، الباب الثاني في حق مرور الزمن، ج:4، ص:298، المادة 1660، ط:دار الجيل)
تکملہ حاشیۃ ابن عابدین میں ہے:
ودعوى الدين على معسر أيسر إذا تركها المدة المذكورة من حين اليسار.
ومدة عدم سماع الدعوى في الوقف ست وثلاثون سنة إذا كان بدون عذر شرعي وكان للوقف متول.
وأما دعوى الاراضي الاميرية فمن بعد مرور عشر سنين لا تسمع الدعوى بها ولا بشئ من حقوقها.
وأما الدعوى في المنافع العامة كالطريق العام والنهر العام والمرعى وأمثال ذلك إذا تصرف بها أحد: أي مدة كانت فإنها تسمع الدعوى عليه بها.
(كتاب الدعوى، باب التحالف، ج:8، ص:100، ط:دار الفکر)
وفیہ اَیضاً:
"والحاصل من هذه النقول أن الدعوى بعد مضي ثلاثين سنة أو بعد ثلاثة وثلاثين لا تسمع إذا كان الترك بلا عذر من كون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا وليس لهما ولي، أو المدعى عليه أميرا جائرا يخاف منه، أو أرض وقف ليس لها ناظر، لان تركها هذه المدة مع التمكن يدل على عدم الحق ظاهرا كما مر عن المبسوط، وإذا كان المدعي ناظرا ومطلعا على تصرف المدعى عليه إلى أن مات المدعى عليه لا تسمع الدعوى على ورثته كما مر عن الخلاصة.وكذا لو مات المدعي لا تسمع دعوى ورثته كما مر عن الولوالجية.
(كتاب الدعوى، باب التحالف،ج:8، ص:97، ط:دار الفکر)
امدادالفتاوی میں ہے:
" یہ تقید اسی وقت اور اسی شخص کے حق میں ہے جو اس سلطان کا محکوم ہو ، اور جب تک وہ سلطان زندہ رہے اور اپنے اسی حکم پر قائم رہے، اور اگر کوئی حاکم و قاضی اس سلطان کے دائرہ حکومت سےخارج ہو، یا وہ سلطان مرجائے جس کے مرنے سے بتصریح فقہاءر اس کا حکم مرتفع ہو جاتا ہے یا خود وہ سلطان اپنا حکم منسوخ کر دے،ان صورتوں میں یہ حکم نہیں، خلاصہ یہ ہے کہ حکم مقصود شرعی نہیں بلکہ شعبہ ہے توکیل با مر خاص کا، چنانچہ عبارت سوال میں سے یہ قول لان السلطان لم يوكل الخ اس کی صریح دلیل ہے اس بناء پر غیر حدود سلطنت عثمانیہ میں ان روایات کوحکم فقہی سمجھ کر عمل کرنا جائز نہیں، اور حدود عثمانیہ میں بھی صرف قضاة پر عمل واجب ہے ، نہ اہل حقوق پر ۔"
(کتاب الدعوی ،ج: 3، ص: 417،ط:دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144606102142
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن