بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرس کا درمیان سال اخراج کی بناپربقیہ مہینوں کی تنخواہ کامطالبہ کرنا


سوال

 ہمارے مدرسہ میں شعبۂ حفظ کے اساتذۂ کرام کے متعلق یہ ضابطہ مقرر ہے کہ ابتداءً قرّاء کی تقرری تین ماہ کے لیے عارضی ہوتی ہے، اور تین ماہ مکمل ہونے کے بعد مستقل تقرری کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی استاد مدرسہ کے ضابطہ کی خلاف ورزی کرے تو پہلے اسے سمجھایا جاتا ہے، اور اگر بار بار سمجھانے کے باوجود وہ ضابطہ کی خلاف ورزی سے باز نہ آئے تو مجبوری کے تحت ایسے استاد کو جواب دے دیا جاتا ہے اور اس ماہ کی پوری تنخواہ ادا کر دی جاتی ہے، اگرچہ تقرری کے وقت اضافی تنخواہ دینے کا کوئی معاہدہ طے نہ ہوا ہو۔

اسی ادارہ کے ایک قاری صاحب کو مدرسہ سے خارج کیا گیا، جن کے اخراج کی وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔شعبۂ حفظ و ناظرہ کی گیارہ کلاسوں کے لیے جامعہ کی طرف سے ایک نگران مقرر ہے، مگر مذکورہ قاری صاحب نے کبھی بھی اس نگران کی بات نہیں مانی۔ نگران کی طرف سے اگر کسی طالب علم کی چھٹی کی پرچی آتی تو وہ اسے مسترد کر دیا کرتے تھے۔

2۔مستقل دفتری احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہے، انتظامیہ کی جانب سے بارہا مذاکرات اور تنبیہ کے باوجود انہوں نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا۔

3۔طلبہ کو سخت مار پیٹ کرتے تھے، حتیٰ کہ ایک طالب علم کے ہاتھ کی ہڈی بھی توڑ دی۔ وہ طالب علم اپنے سرپرست اور چند رفقاء (جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل تھے) کو لے کر دفتر آیا، تو مدرسہ انتظامیہ نے بڑی مشکل سے انہیں سمجھا بجھا کر واپس کیا۔

مذکورہ بالا وجوہات کی بنیاد پر مدرسہ انتظامیہ نے 12 جمادی الثانی کو قاری صاحب کا اخراج کر دیا، اور بارہ دن کی تنخواہ کے بجائے پورے ماہ کی تنخواہ بھی ادا کر دی۔ اب وہ قاری صاحب رجب، شعبان اور رمضان کی تنخواہ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ تقرری کے وقت اخراج کی صورت میں پورے سال کی تنخواہ کی ادائیگی کا کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ قاری صاحب رجب، شعبان اور رمضان کی تنخواہ کے مطالبہ کے حق دار ہیں یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب مدرسہ میں شعبۂ حفظ کے اساتذہ کے بارے میں ضابطہ مقررہے،لہذا اس طے شدہ ضابطہ کے مطابق عمل کرنا فریقین کے لئے ضروری ہے،دوم یہ کہ  شعبۂ حفظ وناظرہ کی نگرانی کے لئے نگران مقررہے تو نگران کی جائز ہدایات پرعمل کرنا شعبہ کے اساتذہ کے لئے ضروری ہے۔

لہذا مذکورہ استادکانگران کی چھٹی کی  منظوری کومستردکرنا،مستقل دفتری احکامات کی خلاف ورزی کرنا، انتظامیہ کی جانب سے بارہا یاددہانی اور تنبیہ کے باوجود اپنارویہ تبدیل نہ کرنا اورطلبہ کوسخت مارپیٹ کرنا،حتی کہ ایک طالب علم  کےہاتھ کی  ہڈی توڑدینا“یہ ایسی غلطیاں ہیں جن کی بنیادپر مدرس مستحقِ عزل ہوتا ہے،  بلکہ نگران کی ہدایات کو باربارنظراندازکرناہی ایسی کوتاہی ہے جس کی بنا پر مدرس مستحق عزل ہو جا  تا  ہے۔

لہذا ان اعذارکی بناپرمدرسہ انتظامیہ نےقاری صاحب کو معزول کردیا تو مدرسہ انتظامیہ کا یہ اقدام شرعاً غلط نہیں ،ایسی صورت میں  جب معلم کو ان کی قابل عزل غلطی پر معزول کیا گیا اور مدرسہ انتظامیہ نے ایام کار  کی تنخواہ سےبڑھاکرمدرسہ کےضابطہ  عام کے مطابق پورے مہینے کی تنخواہ بھی دے دی تواب قاری صاحب کوبقیہ مہینوں کی تنخواہ کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"(‌المسلمون ‌عند ‌شروطهم) . أخرجه الطحاوي وأبو داود من حديث أبي هريرة....الشروط التي قد أباح الكتاب اشتراطها، وجاءت بها السنة، وأجمع عليها المسلمون، وما نهى عنه الكتاب ونهت عنه السنة فهو غير داخل في ذلك."

(باب ما قيل في العمراى والرقباى، ج: 13، ص: 180، ط: ودار الفكر، بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

وكل عذر لا يمنع المضي في موجب العقد شرعا ولكن يلحقه نوع ضرر يحتاج فيه إلى الفسخ. كذا في الذخيرة.

(كتاب الإجارة، الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر، ج: 4، ص: 458، ط: دار الفكر، بيروت)

وفیہ أیضا:

"ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها."

(كتاب الإجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، ج: 4، ص: 413، ط: دار الفكر بيروت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"تنخواہ تو کام  کا معاوضہ  ہے،اگر مدرسہ کا کام  نہیں  کرتے تو تنخواہ  کس  بات  کی  ہے۔"

(کتاب الوقف، باب مایتعلق بالمدارس، ج: 15، ص: 540، ط: فاروقية)

خیرالفتاوی میں ہے:

"ملازمت  ختم  کر لینے کے بعد  استحقاق  اجرت   نہیں  رہتا۔"

(باب احکام المدارس، ج: 6، ص: 631، ط:امدادیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101782

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں