بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرس کا صدقہ فطر لینا


سوال

میں ایک مدرسہ میں ناظرہ کی کلاس پڑھاتا ہوں۔ مہینے کی تنخوا بھی مقرر ہے لیکن میں صاحب نصاب نہیں ہوں کیا میں فطرانہ قبول کرسکتا ہوں؟

جواب

سائل کے پاس اگر ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر نقدی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مال تجارت یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ضرورت سے زائد اشیاء یا پھر ان میں سے ہر ایک یا بعض کو بعض سے ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر نہیں ہے تو پھر سائل صدقہ فطر لے سکتا ہے۔

وفيه أيضا:

"(ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم) كما مر (وبه) أي بهذا النصاب (تحرم الصدقة) كما مر، وتجب الأضحية ونفقة المحارم على الراجح."

(کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر ج نمبر ۲ ص نمبر ۳۶۰،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں