
دو بندوں کے درمیان جھگڑا ہوا،ایک نے دوسرے پر دعوی کیا،اور حکم/ قاضی نے مدعی سے گواہ طلب کیے،مدعی گواہ پیش کرنے سے عاجز آیا،اس پر قاضی نے مدعی علیہ سے قسم طلب کی، مدعی علیہ کے قسم کھانے سے پہلےہی مدعی کو گواہ مل گئے، یعنی قسم دینے کے لئے جو وقت طے ہوا تھا،اس سے پہلے پہلے مدعی نے گواہ پیش کردیے،تو کیا مدعی گواہ پیش کرسکتا ہے یا نہیں؟اور قاضی کے لیے اس کی سماعت جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مدعی علیہ سے قسم لینے سے پہلے مدعی کو گواہ پیش کر نے کا حق حاصل ہے،اور قاضی کے لیے اس کی سماعت بھی جائز ہے۔
مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه» . رواه مسلم وفي «شرحه للنووي» أنه قال: وجاء في رواية «البيهقي» بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا:لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر"۔
(كتاب الإمارة والقضاء، باب الأقضية والشهادات، ج:2، ص:1110، الرقم:3758، ط:المكتب الإسلامي بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتقبل البينة لو أقامها) المدعي وإن قال قبل اليمين لا بينة لي سراج خلافا لما في شرح المجمع عن المحيط (بعد يمين) المدعى عليه كما تقبل البنية بعد القضاء بالنكول خانية (عند العامة) وهو الصحيح لقول شريح: اليمين الفاجرة أحق أن ترد من البينة العادلة، ولأن اليمين كالحلف عن البينة فإذا جاء الأصل انتهى حكم الخلف كأنه لم يوجد أصلا بحر".
(کتاب الدعوی، سبب الدعوی، ج:5، ص:550، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102114
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن