
بندہ کے سامنے چند دن پہلے ایک بات ہوئی کہ معوذتین(سورۃ فلق وسورۃ الناس)قرآن کا حصہ نہیں اور اس بات کی نسبت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی جاتی ہے۔
جنہوں نے یہ بات کی انہوں نے اس کو دلیل سے ثابت بھی کیا،مگر لاعلمی کی وجہ سے بندہ خاموش رہا،بذات خود تحقیق کرنے کی کوشش بھی کی مگر کوئی نقطہ سامنے نہیں آیا۔
اگر ایسی کوئی بات ہے تو براہ کرم اس پر تفصیل سے لکھ دیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی پوری امت کی طرح معوذتین کو قرآن کریم کا جزءمانتے تھےاور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو متواتر قراءتیں منقول ہیں،ان میں معوذتین اور سورۃ الفاتحہ دونوں شامل ہے؛چناں چہ قرءات عشرہ میں سے امام عاصم اور امام حمزہ رحمہما اللہ کی قراءتیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور ان میں معوذتین اور سوۃ الفاتحہ شامل ہےاور جن روایات میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف اس کے برخلاف قول منسوب ہے تو بقول امام نووی،ابن حزم اور امام رازی رحمہم اللہ تعالی کے وہ روایات من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔
چنانچہ امام نووی اور ابن حزم رحمہم اللہ کے اس قول کو شرح الشفا میں قاضی عیاض رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ:’’امام نووی رحمہ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ معوذتین،سورۃ الفاتحہ اوروہ تمام سورتیں جو قرآن کریم میں لکھی گئی ہیں وہ قرآن کریم کا حصہ ہیں اور اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جو شخص بھی اس میں سے کسی بھی حصہ کا انکارکرےگاوہ کافر ہوجاۓگااور جو باتیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے معوذتین یا فاتحہ کے بارے میں منقول ہیں وہ سب غلط ہیں‘‘،ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:’’یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھاگیاہےحالاں کہ ان سے عاصم کی قرءات زر ابن حبیش کے واسطے سے منقول ہےاور اس میں معوذتین اور فاتحہ دونوں موجود ہیں۔‘‘
شرح الشفاء میں هے :
"وقال محمد بن سحنون فيمن قال المعوذتان بكسر الواو وتفتح وهما سورة الفلق والناس (ليستا من كتاب الله يضرب عنقه إلا أن يتوب) لنفيه لهما منه مع ثبوتهما فيالمصاحف العثمانية التي وقع عليها إجماع الأمة قال النووي في شرح المهذب أجمع المسلمون على أن المعوذتين والفاتحة وسائر السور المكتوبة في المصحف قرآن وأن من جحد شيئا منها كفر وما نقل عن ابن مسعود في الفاتحة والمعوذتين باطل ليس بصحيح عنه قال ابن حزم في أول كتابه المحلي هذا كذب على ابن مسعود وإنما صح عنه قراءة عاصم عن زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود وفيها الفاتحة والمعوذتان انتهى ."
(القسم الرابع (في تصرف وجوه الأحكام فيمن تنقصه أو سبه عليه الصلاة والسلام،الباب الثالث (في حكم من سب الله تعالى وملائكته وأنبياءه وكتبه وآل النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وأزواجه وصحبه،فصل (واعلم أن من استخف بالقرآن)،ج:2،ص: 547،ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
اور امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:غالب گمان یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ بہتان اور جھوٹ باندھاگیاہے:
"والأغلب على الظن أن نقل هذا المذهب عن ابن مسعود نقل كاذب باطل."
(التفسیر الکبیر، سورۃ الفاتحہ،الكتاب الثالث الكلام في سورة الفاتحة وفي ذكر أسماء هذه السورة،الباب الخامس في تفسير سورة الفاتحة،الفصل الأول: تفسير «الحمد لله»،ج:1،ص: 190،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
اور بالفرض والتقدیر اگر ان روایات کو صحیح مان بھی لیاجاۓ تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ بات سامنے آتی ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان روایات کو اپنے مصحف میں لکھانہیں تھا،اس سے یہ سمجھنا غلط ہے کہ حضرت ابن مسعود ان سورتوں کوقرآن کریم کا حصہ نہیں مانتے تھے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان سورتوں کو اپنے مصحف میں کیوں نہیں لکھاتھا، اس کی تین وجوہات ہیں:
1:امام ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں پر بھولنے کا خدشہ نہیں تھا؛کیوں کہ یہ صبح وشام پڑھی جاتی ہیں، اس لیے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سورتوں کو اپنے مصحف میں نہیں لکھااور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے مصحف میں سورۃ الفاتحہ بھی نہیں لکھی تھی؛حالاں کہ پوری امت میں سے کسی نے بھی سورۃ الفاتحہ کا قرآن کریم کا حصہ ہونے سے انکار نہیں کیاہے۔
تفسیر ماتریدی میں ہے:
"والثاني: أنه يكتب ليحفظ ولا ينسى، وقد أمن عليهما النسيان؛ لأنهما بحيث يجب تلاوتهما في أوائل النهار ومبادئ الليل، وعند النوازل ينفع التعوذ بهما من كل شر وكيد، على نحو الاستعاذة وأنواع الدعوات المدعوة، فلما أمن خفاءهما لم يكتب، وعلى ذلك ترك كتابة فاتحة الكتاب، والله أعلم بالصواب."
(سورۃ الناس،ج:10،ص: 668،ط:دارالکتب العلمیة بيروت)
2:امام قسطلانی رحمہ اللہ نے قاضی ابوبکر الباقلانی رحمہ اللہ کے حوالہ سے یہ لکھاہےکہ:"حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کے قرآن کریم کا حصہ ہونے سے انکار نہیں فرماتے تھے بلکہ انہوں نے معوذتین کو اس لیے اپنے مصحف میں نہیں لکھاتھا کہ ان کی راۓ یہ تھی کہ قرآن کریم میں وہی سورت یا آیت لکھی جاۓ کہ جس کے بارے میں پیغمبر علیہ السلام نے یہ اجازت دی ہو کہ یہ قرآن کریم میں لکھاجاۓاور امکان یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات نہیں پہنچی تھی کہ پیغمبر علیہ السلام نے ان سورتوں کو قرآن کریم میں لکھنے کی اجازت دی ہے،اس لیے انہوں نے اپنے مصحف میں نہیں لکھاتھا۔
ارشادالساری میں ہے:
"وقد تأول القاضي أبو بكر الباقلاني ذلك بأن ابن مسعود لم ينكر قرآنيتهما، وإنما أنكر إثباتهما في المصحف، فإنه كان يرى أن لا يكتب في المصحف شيء إلا إن كان النبي صلى الله عليه وسلم أذن في كتابته فيه، وكأنه لم يبلغه الإذن في ذلك، فليس فيه جحد لقرآنيتهما."
(کتاب التفسیر،سورۃ(قل أعوذبرب الفلق)،ج:15،ص: 538،ط:دارابن حزم)
3: علامہ ابن الھمام رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب التحریر فی اصول الفقہ میں یہ وجہ لکھی ہےکہ:حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے مصحف میں معوذتین اس لیے نہیں لکھی تھی کہ ان کا قرآن کریم میں سے ہونا حددرجہ واضح تھا۔واضح اس لیے تھا کہ جیسا کہ ماقبل میں امام ابومنصور ماتریدی رحمہ اللہ کے حوالہ سے گزرا کہ ان کی صبح وشام تلاوت کی جاتی ہے۔
تیسیرالتحریر میں ہے:
"وما عن ابن مسعود من إنكار) كون (المعوذتين) من القرآن (لم يصح) عنه كما ذكره الطرطوسي وغيره (وإن ثبت خلو مصحفه) منهما (لم يلزم) كون خلوه (لإنكاره) أي ابن مسعود قرآنيتهما (لجوازه) أي كون خلوه (لغاية ظهورهما). وفيه أن ظهور الإخلاص مثلا أكثر منهما فتأمل (أو لأن السنة عنده) أي ابن مسعود (أن لا يكتب منه) أي القرآن (إلا ما أمر النبي صلى الله عليه وسلم بكتبه ولم يسمعه) أي أمره صلى الله عليه وسلم بذلك أقول."
(المقالة الثانية،الباب الثاني،مسألة،ج:3،ص: 9،ط:دار الكتب العلمية - بيروت)
معارف القرآن میں مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
"معوذتین یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس قرآن کریم کی دو سورتیں ہیں اور اس پر تمام صحابہ اور ائمہ مفسرین کا اتفاق ہے اور عہد صحابہ سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ ان دونوں کا قرآن کی سورتیں ہونا ثابت ہے اور احادیث صحیحہ سے ان دونوں کا فرض نمازوں میں پڑھنے کا بھی ثبوت ہے۔نیز حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مصحف الامام میں بھی ان کا ہوتا تمام روایات اور تاریخی نقول سے ثابت ہو چکا جس میں کسی بھی تردد کی گنجائش نہیں ، حضرت عثمان غنی و مصحف قرآنی کے جو نسخے تمام بلاد اسلامیہ کو بھیجے تھے ان سب میں یہ موجود تھیں اور اقطار عالم میں صحابہ و تابعین اور پوری امت ان کی تلاوت کرتی رہی اور تواتر سے یہ امر ثابت ہے کہ اس بارہ میں کسی نے اختلاف نہیں کیا ، صرف عبداللہ بن مسعود سے اختلاف نقل کیا گیا کہ انہوں نے اپنے مصحف (نسخہ قرآن) میں معوذتین کو نہیں لکھا تھا (جس سے یہ بات سمجھی گئی کہ وہ ان کےقرآن ہونے کے قائل نہیں ہیں، قطعی طور پر تو یہ متعین و معلوم نہیں ہوسکا کہ عبداللہ بن مسعود کی کیا مراد تھی !اور کس وجہ سے انہوں نے اپنے مصحف میں ان کو نہیں لکھا تھا یا ان کو کیا خیال یا شبہ پیش آیا کہ اس کے باعث یہ صورت واقع ہوئی۔"
(سورۃ الناس،ج:8،ص:581،580،ط:مکتبۃ المعارف)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101440
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن