بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

معاملہ ختم ہونے پر خریدار بیعانہ کی رقم دگنا لینے کا حق دار نہیں ہے


سوال

میں بروکری کا کام کرتا ہوں، میں نے اپنے توسط سے کسی کو فلیٹ فروخت کیا، میں نے ان کو تین لاکھ کا ٹوکن دیا، انہوں نے مجھے ٹوٹل پانچ لاکھ روپے دیے، پھر ہمارایہ معاملہ ختم ہوگیا، تومیں نے ان کو ان کے پانچ لاکھ روپے دو گواہوں کی موجودگی میں  واپس دے دیے، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ مجھے مزید تین لاکھ روپے دو، مجھ سے بیعانہ ڈبل لے رہے ہیں اور میں  غریب آدمی ہوں اور یہ سود کے  زمرے میں بھی آتا ہے اور میں سود نہیں دینا چاہتا، تو کیا  میرے اوپراس پارٹی کوتین لاکھ روپے دینا لازم ہیں؟

نیز میرا ایک ایگریمنٹ اور دو چیک بھی ان کے پاس ہیں اور وہ مجھے واپس نہیں  دے رہے، تو کیا ان پر لازم نہیں کہ وہ مجھے میرا ایگریمنٹ واپس کریں ؟

جواب

واضح رہے کہ خرید وفروخت کے معاملہ میں خریدار کی طرف سے  بیعانہ کے نام سے جو رقم دی جاتی ہے وہ خریدی جانے والی چیز کی قیمت کاحصہ ہوتی ہے،اگر کسی وجہ سے سودا مکمل نہ ہو سکے تو  فروخت کنندہ کے ذمہ بیعانہ کے طور پر وصول کردہ رقم واپس کرنا  لازم ہوتا ہے، خواہ سودا فروخت کنندہ کی جانب سے ختم کیا گیا ہو، یا خریدار کی جانب سے ، کسی ایک فریق کو بیعانہ کی رقم  سے زائد  کے مطالبہ کا یا بیعانہ ضبط کرنے کا شرعاً حق نہیں ہوتا ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے ذمہ بیعانہ کے پانچ لاکھ  سے زائد ایک روپیہ بھی دینا لازم نہیں اور   خریدار کے لیے مزید تین لاکھ روپے کا مطالبہ کرنابھی  جائز نہیں ۔

نیز سودا ختم ہوجانے کے بعد ایگریمنٹ اور سائل کے چیک واپس کرنا خریدار پر  شرعالازم ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيماً(النساء:29) 

 ترجمہ:اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤلیکن کوئی تجارت ہو جا باہمی رضامندی سے ہو تو مضائقہ نہیں اور تم ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو بلاشبہ اللہ تعالی تم پر بڑے مہربان ہیں ۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان. رواه مالك وأبو داود وابن ماجه"

(کتاب البیوع، ‌‌باب المنهي عنها من البيوع، الفصل الثانی، ج:2،ص:866، ط :المكتب الإسلامي)

النتف فی الفتاوی للسغدی میں ہے:

"واما البيوع الفاسدة فهي على ثلاثين وجها ... والثاني والعشرون بيع العربان ويقال الاربان وهو ان يشتري الرجل السلعة فيدفع الى البائع دراهم على انه ان اخذ السلعة كانت تلك الدراهم من الثمن وان لم يأخذ فيسترد الدراهم."

(كتاب الولاء، ابواب البیوع الفاسدۃ، ج:1، ص:46، ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101585

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں