بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1448ھ 01 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ملاقات نہ کرنے والے بیٹے کے لیے وظیفہ


سوال

میرا بیٹا مجھ سے دور ہو گیا ہے، ملنے جلنے نہیں آتا، فون پر بات بھی نہیں کرتا، کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہیں ہے، ملاقات نہیں ہوتی، کوئی ایسا وظیفہ بتادیں کہ بیٹے سے ملاقات ہو جائے، بیٹے کو دیکھنے کے لیےآنکھیں ترس جاتی ہیں، آپ کی بڑی مہربانی۔

جواب

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا شرعاً ضروری ہے، ان کی نافرمانی اور ایذا  رسانی  حرام اورکبیرہ گناہ  ہے، قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ  میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت کی بڑی تاکید آئی ہے،  اور والدین کی نافرمانی اور والدین کو ستانے والے کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی  ہیں، اور والدین سےبلاعذر ملاقات نہ کرنے والا بھی ان کا نافرمان اور ستانے والے میں شمار ہو گا، ذیل میں قرآن و حدیث سے کچھ فرمودات ذکر کیے جاتے ہیں؛ تا کہ اس مسئلہ کی اہمیت واضح ہو سکے:

         ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ً وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَبَّيَانِي صَغِيرًا} [الإسراء: 23، 24]

         ترجمہ: اور تیرے رب  نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی  عبادت مت کرو، اور تم (اپنے)  ماں  باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو،  اگر  تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں، سو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں  بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا ، اور ان سے خوب اَدب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے، انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا  کہ اے  پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیں جیساکہ انہوں  نےمجھ کو بچپن میں پالا، پرورش کیا ہے۔ ( ازبیان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".

(مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ص: 421، ط: قدیمی)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا: جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا ہے، یعنی: اس نے ماں باپ کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ہے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اگر اس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے اطاعت اور فرمانبرداری کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے، اور جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ہے( یعنی: اس نے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور تقصیر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے) تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے دوزخ کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے نافرمانی کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے۔ یہ ارشاد سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں،اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں،اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں۔

(مظاہر حق، ج: 4، صفحہ: 486، ط: دارالاشاعت)

والدین خواہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں، اولاد کا کام والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے، اگر  اولاد نافرمانی کرے گی تو وہ اللہ کے ہاں غضب کی مستحق ہوگی، اور اس کے لیے جہنم کا دروازہ کھل جائے گا۔

نیز حدیث شریف میں ہے:

 "عن أبي أمامة، أنّ رجلا قال: يا رسول اللّه، ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما جنتك ونارك»".

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلۃ، ج: 2، ص: 421، ط: قدیمی)

         ترجمہ:  حضرت ابو  امامہ رضی  اللہ  عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ! اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہی دونوں تیری جنت اور جہنم ہیں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

 "وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إِلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات."

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلة، ج: 2، ص:421، ط: قدیمی)

         ترجمہ: "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛ شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے، مگر والدین کی نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں  جلد ہی سزا  دے دیتا ہے۔"

(مظاہرِ حق ، 4/487، ط قدیمی)

مذکورہ احادیث آپ کسی طرح اپنے بیٹے کو بھیجیں،تا کہ اس کو مسئلہ کی سنگینی کا احساس ہو، شفقت و محبت سے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے، ان کی ہدایت کے لیے اللہ کے حضور رو رو کر دعا کی جائے، کسی طرح اس کے دوستوں سے کہلوا کر یا کوئی دوسری ترتیب اختیار کر کے  اس کو اللہ والوں اور صالحین کی مجالس میں بھیجا جائے، ان کی مجالس میں شریک ہونے اور بیانات سننے سے اصلاح کی قوی امید ہوتی ہے۔

بہرحال! اولاد کے نافرمان ہونے کی صورت میں حضرت حکیم الامت  مولانا اشرف علی تھانوی  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ  روزانہ ہر نماز کے بعد یہ آیت "وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّيَّتِى إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ "  (الاحقاف:15)                پڑھا کریں اور لفظ "ذُرِّيَّتِى"پر اپنے بچے كا تصور كريں، ان شاءاللہ بیٹا ملاقات کرنا شروع کر دے گا۔

(اعمال قرآنی  مؤلفہ  حکیم الامت ، صفحہ:31  ، طبع: مکتبہ دارالاشاعت) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں