بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا طبعی ضرورت کے لیے مسجد سے باہر جاتے ہوئے بغیر ٹھہرے بات چیت کرنے کا حکم


سوال

اگر معتکف ضرورتِ طبعیہ کے لیے مسجد سے باہر نکلے اور راستے میں کسی سے ضرورت کے تحت بات چیت کر لے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

معتکف کو طبعی ضرورت کے لیے مسجد سے باہر جاتے ہوئے بغیر ٹھہرے بات چیت کرنے کی گنجائش ہے، اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ البتہ اگر باقاعدہ ٹھہر کر بات چیت کی تو اس سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

 طبعی ضرورت سے مراد ایسے کام ہیں جن کے کرنے پر انسان مجبور ہو اور وہ مسجد میں نہیں ہو سکتے، جیسے: پیشاب، پاخانہ، استنجا اور جنابت کا غسل وغیرہ۔

البحر الرائق میں ہے :

"وأشار إلى أنه لو خرج لحاجة الإنسان ثم ذهب لعيادة المريض، أو لصلاة الجنازة من غير أن يكون لذلك قصد فإنه جائز بخلاف ما إذا خرج لحاجة الإنسان ومكث بعد فراغة أنه ينتقض."

( كتاب الصوم،  باب الاعتكاف،ج:2،ص:325،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی  شامی میں ہے:

 

"(قوله طبيعية) حال أو خبر لكان محذوفة أي سواء كانت طبيعية أو شرعية وفسر ابن الشلبي الطبيعية بما لا بد منها وما لا يقضى في المسجد"

(كتاب الصوم،باب الاعتكاف،ج:2،ص:445،ط:سعيد)

فقط والله أعلم

 


فتویٰ نمبر : 144709102111

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں