بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

معلق طلاق میں شرط پائی جانے کی صورت میں حکم اور اس سے بچنے کا حیلہ


سوال

میں نے پلنگ کے سائڈ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر آئندہ یہاں کوئی چیز رکھی تو تمہیں دو طلاق ہے۔ اب اگر میری بیوی اس سائڈ ٹیبل سے کوئی چیز اٹھائے یا اس سائڈ ٹیبل پر رکھی کسی چیز کو چھوئے یا اس سائڈ ٹیبل کی درازوں میں سے کوئی چیز نکالے یا ان میں کوئی چیز رکھ دے تو ان چار صورتوں میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ نیز اگر طلاق کی اس بات سے بچنے اور جان چھڑانے کا کوئی عملی یا فعلی یا قولی طور پر حیلہ ہو تو اس کو بھی ذکر کردیں، کیونکہ زندگی بھر اس طرح احتیاط کرنا بہت مشکل ہے!

جواب

واضح رہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی  کو کسی شرط کے ساتھ  معلق کر کے  طلاق  دے، تو شرط پائے جانے کی صورت میں بیوی پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق، آپ نے اپنی بیوی سے  یہ کہا کہ ”اگر آئندہ یہاں اس سائڈ ٹیبل پر کوئی چیز رکھی تو تمہیں دو طلاق ہے“، اسے معلق  طلاق  کہتے ہے۔ اب اگر آپ کی بیوی آئندہ اس سائڈ ٹیبل پر کوئی چیز رکھے گی،تو اس پر دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

اور باقی آپ نے جو چار صورتیں دریافت کی ہیں، ان کا حکم درج ذیل ہے:

اگر بیوی اس سائڈ ٹیبل سے کوئی چیز اٹھائے،یا اس پر رکھی کسی چیز کو   چھوئے یا  ہاتھ لگائے،یا اس کی دراز سے کوئی چیز باہر نکالے،تو ان تینوں صورتوں میں بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے طلاق کو ” کوئی چیز “ رکھنےکے ساتھ مشروط کیا تھا،  ان تینوں صورتوں میں ”رکھنے“ کی شرط نہیں پائی جا رہی۔

چوتھی صورت (دراز میں چیز رکھنا): یہ صورت وضاحت طلب ہے۔ اگر آپ نے اشارہ کرتے وقت پورے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا تھا، تو چونکہ عرفِ عام میں دراز بھی ٹیبل ہی کا حصہ شمار ہوتی ہے، لہٰذا دراز میں چیز رکھنے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ البتہ اگر آپ کا مطلب  صرف ٹیبل کی اوپر والی سطح تھی، اور آپ نے اسے واضح طور پر  سمجھا دیا تھا کہ ٹیبل کے اوپر مراد ہے۔تو پھر دراز میں رکھنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اس صورتِ حال سے نجات پانے کے لیے درج ذیل تدبیر اختیار کر  سکتے ہیں:

وہ ٹیبل  گھر سے نکال دیں یا تبدیل کروا لیں۔ جب ٹیبل وہاں موجود نہیں ہوگا، تو شرط (وہاں چیز رکھنا) پائے جانے کا امکان ختم ہو جائے گا اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط ‌اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وألفاظ الشرط) أي علامات وجود الجزاء (إن) المكسورة....(وإذا وإذا ما وكل و) لم تسمع (كلما) إلا منصوبة ولو مبتدأ لإضافتها لمبني (ومتى ومتى ما) ونحو ذلك كلو كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال.

(قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق (قوله إلا في كلما) فإن اليمين لا تنتهي بوجود الشرط مرة."

(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 350۔ 352، ط: سعید)

وفيه أيضا:

"(الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض فلو) اغتاظ على غيره و (حلف أن لا يشتري له شيئا بفلس فاشترى له بدرهم) أو أكثر (شيئا لم يحنث كمن حلف لا يخرج من الباب أو لا يضربه أسواطا أو ليغدينه اليوم بألف فخرج من السطح وضرب بعضها وغدى برغيف) .

مبحث مهم في تحقيق قولهم: الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض:

(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر، ولهذا قال في تلخيص الجامع الكبير وبالعرف يخص ولا يزاد حتى خص الرأس بما يكبس ولم يرد الملك في تعليق طلاق الأجنبية بالدخول اهـ ومعناه أن اللفظ إذا كان عاما يجوز تخصيصه بالعرف كما لو حلف لا يأكل رأسا فإنه في العرف اسم لما يكبس في التنور ويباع في الأسواق، وهو رأس الغنم دون رأس العصفور ونحوه، فالغرض العرفي يخصص عمومه، فإذا أطلق ينصرف إلى المتعارف، بخلاف الخارجة عن اللفظ كما لو قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق، فإنه يلغو ولا تصح إرادة الملك أي إن دخلت وأنت في نكاحي وإن كان هو المتعارف لأن ذلك غير مذكور، ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا.

إذا علمت ذلك فاعلم أنه إذا حلف لا يشتري لإنسان شيئا بفلس فاللفظ المسمى وهو الفلس معناه في اللغة والعرف واحد، وهو القطعة من النحاس المضروبة المعلومة فهو اسم خاص معلوم لا يصدق على الدرهم أو الدينار فإذا اشترى له شيئا بدرهم لا يحنث وإن كان الغرض عرفا أن لا يشتري أيضا بدرهم ولا غيره ولكن ذلك زائد على اللفظ المسمى غير داخل في مدلوله فلا تصح إرادته بلفظ الفلس، وكذا لو حلف لا يخرج من الباب، فخرج من السطح لا يحنث، وإن كان الغرض عرفا القرار في الدار وعدم الخروج من السطح أو الطاق أو غيرهما، ولكن ذلك غير المسمى ولا يحنث بالغرض بلا مسمى، وكذا لا يضربه سوطا فضربه بعصا لأن العصا غير مذكورة، وإن كان الغرض لا يؤلمه بأن لا يضربه بعصا ولا غيرها، وكذا ليغدينه بألف فاشترى رغيفا بألف وغداه به لم يحنث وإن كان الغرض أن يغديه بما له قيمة وافية."

(كتاب الأيمان،باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3 ص:743، ط:سعید)

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي  میں ہے:

"وإن قال: (إن خرجت من هذه الدار فأنت طالق) فخرجت من هذه الدار من أي باب كان، ومن أي موضع كان: من فوق حائط، أو سطح أو نقب: حنث، لوجود شرط الحنث، وهو الخروج من الدار."

(الخروج لأمر معين ،ج:4، ص: 2495، ط:دار الفكر - سورية)

الأشباه والنظائر  لابن نجيم میں ہے:

"قاعدة: فيما إذا اجتمعت الإشارة والعبارة، وأصحابنا يقولون: إذا اجتمعت الإشارة والتسمية فقال في الهداية من باب المهر: الأصل أن المسمى إذا كان من جنس المشار إليه يتعلق العقد بالمشار إليه لأن المسمى موجود في المشار إليه ذاتا والوصف يتبعه، وإن كان من خلاف جنسه يتعلق بالمسمى، لأن المسمى مثل المشار إليه وليس بتابع له، والتسمية أبلغ في التعريفمن حيث إنها تعرف الماهية، والإشارة تعرف الذات، ألا ترى أن من اشترى فصا على أنه ياقوت فإذا هو زجاج لا ينعقد العقد لاختلاف الجنس، ولو اشترى على أنه ياقوت أحمر فإذا هو أخضر انعقد العقد لاتحاد الجنس (انتهى)"

(قاعدة: فيما إذا اجتمعت الإشارة والعبارة،ص297، دار الكتب العلمية)

قواعد الفقه میں ہے:

"قاعدة إذا اجتمعت الإشارة والعبارة تعتبر الإشارة."

(القواعد الفقهية، ص:55، ط: الصدف ببلشرز - كراتشي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں