
ایک پرانی مسجد تقریبا2002 سے آباد تھی ،جوکہ زمین پرتھی ،اب اس کو گراکر اس کی ازسرنو تعمیر کی گئی ہے ، نئی عمارت میں تہہ خانے کا اضافہ کیا گیا ہے ،مسجد کی تعمیر تہہ خانےکے اوپر کی گئی اور تہہ خانے میں گھر اور باتھ روم بنایا ہے ،اب سوال یہ ہے کہ اوپر جو مسجدبنائی گئی ہے، کیا اس کو مسجدکا حکم حاصل ہو گا یا نہیں ؟اور اس مسجد میں نماز پڑھنا کیساہے ؟
نوٹ: پرانی مسجد کے نیچے پہلےسے تہہ خانہ نہیں تھا ،اب نئی مسجد کے تعمیر میں تہہ خانہ ،گھر، باتھ روم کا اضافہ کیا گیا ہے،کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟
زمین کے جس حصے پر ایک مرتبہ مسجد بنائی جائے ،وہ حصہ اوپر آسمان تک نیچے زمین کے تہہ تک مسجد کے حکم میں ہوجاتا ہے ،اس حصے میں کسی بھی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں ،خاص طور پر جو مسجد کے احترام کے خلاف ہو ،البتہ جس چیز میں مسجد کی مصلحت ہو ایسی تعمیر وغیرہ کی اجازت ہے ۔
لہذا صورت مسئوله ميں تهه خانے كا اضافه جائزهے، مسجد كے مصالح ہی میں شمار کیا جاتاہے، لیکن اس میں باتھ روم یاگھربنانا شرعاجائزنہیں ، مسجد کے احترام کے بھی خلاف ہے ،لہذاباتھ روم اور گھر کو ختم کرکے اس کو مسجد ہی کا حصہ بنایاجائے، اور اس میں نمازپڑھنےسے نماز ہوجاتي ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"قلت: وبهذا علم أيضا حرمة إحداث الخلوات في المساجد كالتي في رواق المسجد الأموي، ولا سيما ما يترتب على ذلك من تقذيرالمسجد بسبب الطبخ والغسل ونحوه ورأيت تأليفا مستقلا في المنع من ذلك".
(کتاب الوقف ،مطلب فی احکام المسجد،ج: 4،ص: 358،ط: ایچ ایم سعید)
النهر الفائق میں ہے :
"لو كان السرداب أو العلو موقوفاً لصالح المسجد جاز إذ لا ملك فيه لأحد فهو كسرداب بيت القدس كذا في (الفتح)، وبه عرف أن الواقف لو بنى بيتاً للإمام فوق المسجد لا يضر في كونه مسجداً لأنه من المصالح، وأما لو تمت المسجدية ثم أراد هدم ذلك البناء فإنه لا يمكن من ذلك".
(كتاب الوقف ،ج: 3،ص: 330،ط: قدیمی)
مجمع الأنهر میں ہے :
"ولا يجوز للقيم أن يجعل شيئا من المسجد مستغلا ولا مسكنا".
(كتاب الوقف ،فصل إذا بنى الواقف مسجدا لا يزول ملكه،ج: 2،ص: 595،ط: دارالکتب العلمیة)
فتاوى عالمگیری میں ہے :
"ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس كذا في الهداية.إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك".
(كتاب الوقف،الفصل الأول فيما يصير به مسجدا وفي أحكامه وأحكام ما فيه،ج: 3،ص: 454، ط: مكتبةالحبیبة)
امدادالفتاوی:
"سرداب میں یہ قید لگائی ہے لمصالح المسجد اور پاخانہ کو ظاہرہےکہ مصالح مسجد سے نہیں کہ سکتے وہ ایک حاجت طبعیہ ہے جس کو تتمیم اغراض مسجد میں کوئی دخل وتعلق قریب نہیں اور بعید بوسائط کا اعتبار نہیں ورنہ یہ قید ہی بیکارہوگی کیونکہ ہر فعل کا بوسائط بعیدہ مسجد سے تعلق نکل سکتا ہے اس لئے میرے نزدیک اس میں جوازنہیں معلوم ہوتا نیز عرفا خلاف احترام بھی ہے نیز موجب تأذی مصلين بھی ہے اور حدیث میں پیازخام کھانے والے کے حق میں فلایقربن مصلانا آیاہے جو دخول سے عام ہے جس سے ظاہر ا عفونت کی چیز قصدا مسجد کے قریب بنانے کی بھی مذمت معلوم ہو تی ہے"۔
( كتاب الوقف ،باب فی ا حکام المساجد ، ج: 2،ص: 221، ط: دارالعلوم کراچی )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101999
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن