
حکومت آزاد کشمیر نے نیو سول سیکرٹریٹ اور اغراض سرکار و مفاد عامہ کے لیے ایک ہزار کنال سے زائد رقبہ آج سے تقریبا 50 سال پہلے خرید کیا اورجملہ رقبہ مع تعمیرات کے اخراجات اس وقت کے حساب سے سرکار نے مالکان کو دے کر اپنے نام کر دیا،اس رقبہ میں پرانے قبرستان اور مساجد بھی تھیں، قدیمی جامعہ مسجد جو اس وقت لوھاروں والی مسجد کے نام سے موسوم تھی، مسجد کے قبلہ سمت خالی جگہ تھی یعنی مشرق کی طرف قبلہ سے بائیں جانب پیچھے کی طرف کچھ پرانی قبریں بھی تھیں، جو کم و بیش سو سال سے لگ بھگ بتائی جاتی ہیں، اس قدیمی مسجد و قبرستان سے متصل عمارات میں حکومتی منظوری سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا، جس کی تمام لوازمات کے ساتھ رجسٹریشن وغیرہ بھی کروائی گئی، اور حکومت سے بذریعہ قیمت ہاؤسنگ سوسائیٹی کمرشل ریٹ اور اصل قیمت خرید پر تقریبا 6 کنال 15 مرلہ رقبہ حاصل کر کے اس کی قیمت بھی ادا کر دی گئی ، پرانی مسجد میں جگہ کی قلت کی بنا پر 1998 میں 3 منزلہ مسجد تعمیر کی گئی ، اس تعمیر شدہ مسجد کے پچھلے کونے میں 2 قبریں موجود تھیں اور اب بھی ہیں ، ان کے اوپر توسیع شدہ منصوبے میں معززین کی مشاورت سے چھت ڈالی گئی، زلز لہ 2005 میں اس مسجد کا کافی نقصان ہوا جس کے بعد مزید توسیع و تعمیر کا آغاز 2013 میں کیا گیا، دوسری منزل کی گیلری کے ساتھ کچھ پرانی قبریں ہیں جن کو باقی رکھتے ہوئے تقریبا 8 سے 10 فٹ بلندی پر مسجد کی گیلری کی تعمیر مقصود ہے، جس سے نہ صرف مسجد کے زریں حصہ میں بارشوں کا پانی رک جائے گا، بلکہ قبرستان بھی پانی اور کچرے سے محفوظ ہو جائے گا۔
مسجد میں حفظ قرآن کی کلاسز بھی ہوتی ہیں اور روزانہ کی جانے والی تلاوت اور ختم خواجگان اور چہل احادیث پڑھ کر اجتماعی طور پر قریبی مدفون اور اہل ایمان کے لیے ایصال ثواب کیا جاتا ہے۔
1۔کیا مسجد کی توسیع کے لیے مسجد اور قبرستان کےتحفظ و تقدس کو محفوظ رکھ کر مسجد کی توسیع شرعا جائز ہے؟
2۔کیا مسجد اقصی و مسجد حرام کے مطاف میں انبیاء کرام کے مدفون ہونے والی روایات کے تسلسل میں پرانی اور بوسیدہ قبروں کے اوپر مساجد کی توسیع کرنا درست ہے؟
تنقیح:مسجد کے ساتھ قبرستان آباد ہے ہے یا نہیں؟
جواب تنقیح: اس قبرستان میں تقریباً 20 سال سے کوئی بھی میتیں نہیں دفناتا۔
تنقیح: یہ جگہ حکومت نے مدرسہ کے لیے الاٹ کی ہے یا قبرستان کے لیے؟
جواب تنقیح: یہ جگہ حکومت نے مدرسہ کے لیے الاٹ کی ہے۔
اور اہل علاقہ جس جگہ پر 8 یا 10 فٹ اوپر گیلری بنانا چاہتے ہیں، وہ صرف تین یا چار قبروں کے اوپر آئے گی۔
واضح رہے کہ اگر قبرستان میں موجود قبروں کے نشانات باقی ہیں، لیکن اتنا زمانہ گزر گیا ہو کہ اہل قبور بالکل معدوم ہوگئے ہوں جیسا کہ سوال نامہ میں سو سال پرانا ہو نے کا ذکر ہے،تو وہاں مسجد بنانے کی گنجائش ہے، لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر مسجد کی توسیع کی ضرورت ہے اور مسجد کے ارد گرد پرانی قبریں ہیں، اور اہل علاقہ 8یا 10 فٹ اوپر گیلری بنانا چاہتے ہیں تو بنا سکتے ہیں۔
عمدة القاري میں ہے:
"فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد. وذكر أصحابنا أن المسجد إذا خرب ودثر ولم يبق حوله جماعة، والمقبرة إذا عفت ودثرت تعود ملكًا لأربابها، فإذا عادت ملكًا يجوز أن يبنى موضع المسجد دارًا و موضع المقبرة مسجدًا و غير ذلك، فإذا لم يكن لها أرباب تكون لبيت المال. وفيه: أن القبر إذا لم يبق فيه بقية من الميت ومن ترابه المختلط بالصديد جازت الصلاة فيه."
(باب هل تنبش قبور مشرکي الجاهلیة ویتخذ مکانها مساجد، 4/ 179، ط:إدارة الطباعة المنيرية)
فتاوٰی شامی میں ہے:
" وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ. قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره؛ لأن الحرمة باقية"
(مطلب في دفن المیت: ج:2، ص:233، ط: سعید)
امداد الأحکام میں ہے:
”پرانی قبر کو مسجدمیں داخل کرنا“
”کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد بہت چھوٹی ہے، جس میں پورے طور پر نمازی نہیں آسکتے، اس کو بڑھانا چاہتے ہیں، مگر تین طرف سے بالکل جگہ نہیں اور دوسری طرف اگر مسجد بڑھانی جائے تو ایک قبر مسجد کے اندر آجاتی ہے، ایسی صورت میں مسجد کا کیا حکم ہے؟ اگر مسجد کا اسباب لے کر کشادہ زمین میں اس اسباب سے مسجد تعمیر کرائی جائے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: سوال سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبر پرانی ہے، سو اگر ایسا ہے تو اس قبر کا نشان مٹا کر اس کی بلندی کو دوسری زمین کے ہموار کر کے اس زمین کو مسجد کے اندر لے لینا جائز ہے، بشرطیکہ موضع قبر وقف ہو، اگر وقف نہ ہو تو ورثاء میت سے یا جو اس زمین کا مالک ہو اجازت حاصل کر کے ایسا کیا جائے اور اگر جدید ہے، پرانی نہیں تو ابھی اس کو جزء مسجد بنانا جائز نہیں، جب تک کہ قدیم اور بوسیدہ نہ ہوجائے، اس صورت میں اس مسجد کو اس حال پر چھوڑ دیا جائے اور دوسری جگہ بڑی مسجد بنائی جائے، قدیم مسجد کامنہدم کرنا اور اس کا سامان جدید میں لگانا جائز نہیں۔ واللہ اعلم“
(احکام المقابر: ج:3، ص: 286، ط: مکتبہ دار العلوم، کراچی)
امداد الفتاوی میں ہے:
’’سوال:مسجد بڑھا کر قبر کو اندر کرلینا درست ہے یا نہیں ؟اور اس کے اوپر جوتیاں وغیرہ اتارنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب:فی رد المحتار اذا بلی المیت و صار ترابا یجوز زرعه و البناء علیه ومقتضاہ جواز المشی فوقه،اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر قبر پرانی ہوجاوے کہ بغالب گمان اس میں مردہ خاک ہوگیا ہو تو یہ سب امور مذکورہ سوال جائز ہیں۔‘‘
(ج:1،ص:578،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102117
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن