
ہمارے ہاں سرکار سے ہم نے سولر منظور کروایا ہے اور اسی سولر کو ہم نے مسجد کی چھت پر لگایا ہے اور اس کی ملکیت اہل محلہ کی ہے اور پھر ہم نے ایک بورنگ کی ہوئی ہے،بورنگ بھی اہل محلہ کی ہے، اس بورنگ کے پانی سے کچھ ہم نے مسجد کو دیا ہے جو مسجد میں استعمال ہوتا ہے وضو وغیرہ کے لیے اور کچھ قریب ایک مدرسے کو دیا ہے جو وہاں استعمال ہوتا ہے اور باقی پورا پانی اہل محلہ کو دیا ہے، سولر کی بجلی صرف ٹیوب ویل میں استعمال ہوتی ہے، مسجد کے پنکھوں وغیرہ میں استعمال نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ کہ اس پانی سے مسجد اور مدرسے اور اہل محلہ کی ضرورت پوری ہوتی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ ہم سولر کے واسطے مسجد کی چھت کو استعمال کر رہے ہیں، تو آیا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
ایک مرتبہ جب مسجد کو وقف کر دیا جاتا ہے تو مسجد واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے اور تحت الثریٰ سے لے کر آسمانوں تک وہ مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے، اس میں نماز، عبادت، تعلیم، درس و تدریس و خطابت قرآن مجید کی تلاوت اور اعتکاف وغیرہ ہو سکتا ہے، مسجد کی چھت پر محلے والوں کے فائدے کے لیے سولر نصب کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ مسجد کی چھت اس کام کے لیے وقف نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سرکار سے وصول شدہ سولر اگر اہل محلہ کی ملکیت ہے اور اس کا اور بورنگ کا بیشتر استعمال اہل محلہ کے لیے ہے تو ایسی صورت میں مسجد کی چھت پر سولر نصب کرنا جائز نہیں ہے، اگر مسجد کی چھت پر اس کو نصب کر دیا گیا ہے تو اس کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہے۔
صحيح مسلم ميں ہے:
عن أبي عبد الله، مولى شداد بن الهاد أنه سمع أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا»
(كتاب المساجد، باب النهي عن نشد الضالة في المسجد وما يقوله من سمع الناشد، 210/1/ قديمي)
ترجمہ: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرتا سن لے تو اسے چاہیے کہ کہے: اللہ اسے تجھے واپس نہ کرے، کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔“
بذل المجہود میں ہے:
"باب: في كراهية إنشاد الضالة في المسجد
471 - حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي، ثنا عبد الله بن يزيد، ثنا حيوة - يعني ابن شريح - قال: سمعت أبا الأسود يقول: أخبرني أبو عبد الله مولى شداد أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا أداها الله إليك، فإن المساجد لم تبن لهذا."
(فإن المساجد لم تبن لهذا) تعليل للحكم، ويحتمل أن يكون من جملة المقول، والإشارة إلى نشدان الضالة، بل المساجد بنيت لذكر الله تعالى وتلاوة القرآن والوعظ، حتى كره مالك البحث العلمي، وجوزه أبو حنيفة وغيره، ويستثنى من ذلك عقد النكاح فيه."
(کتاب الصلاۃ، باب: في كراهية إنشاد الضالة في المسجد، ج : 3 ، ص : 200 ، ط : مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ويكره الإعطاء مطلقا، وقيل إن تخطى وإنشاد ضالة."
(كتاب الصلاة، ج : 1 ، ص : 660 ، ط : سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) كره تحريمًا (الوطء فوقه، والبول والتغوط)؛ لأنه مسجد إلى عنان السماء.
(قوله: إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى، كما في البيري عن الإسبيجابي."
(کتاب الصلاۃ ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها ،1/ 656 ، ط : سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"حاصله: أن شرط كونه مسجداً أن يكون سفله وعلوه مسجداً؛ لينقطع حق العبد عنه؛ لقوله تعالى: {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفاً لمصالح المسجد، فإنه يجوز؛ إذ لا ملك فيه لأحد، بل هو من تتميم مصالح المسجد، فهو كسرداب مسجد بيت المقدس، هذا هو ظاهر المذهب، وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية، وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتاً على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لايضر في كونه مسجداً؛ لأنه من المصالح.
فإن قلت: لو جعل مسجداً ثم أراد أن يبني فوقه بيتاً للإمام أو غيره هل له ذلك قلت: قال في التتارخانية إذا بنى مسجداً وبنى غرفة وهو في يده فله ذلك، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لايتركه. وفي جامع الفتوى: إذا قال: عنيت ذلك، فإنه لايصدق. اهـ".
(کتاب الوقف ، فصل في أحکام المسجد ، 5/ 271 ، ط : دارالکتاب الإسلامي، بیروت)
محیط برہانی میں ہے:
"إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك."
(كتاب الوقف ، الفصل الحادي والعشرون : في المساجد وهو أنواع ، 6/ 207 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
”مسجد میں گمشدہ بچے کا اعلان انسانی جان کی اہمیت کے پیشِ نظر جائز ہے
س… مسجد میں لاوٴڈ اسپیکر سے مختلف قسم کے اعلانات ہوتے ہیں، جلسہ کے انعقاد کا، ضروری کاغذات کا، گمشدہ رقم، بچے کی گمشدگی، نمازِ جنازہ اور جانوروں کی گمشدگی کا، مثلاً: فلاں صاحب کا بکرا گم ہوگیا ہے، اسلامی نقطہٴ نگاہ سے یہ کیسے ہیں؟ اور کس قسم کے اعلانات دُرست ہیں؟
ج… مسجد میں گمشدہ چیز کی تلاش کے لئے اعلان کرنا جائز نہیں، حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، البتہ گمشدہ بچے کا اعلان انسانی جان کی اہمیت کے پیشِ نظر جائز ہے، اور جو چیز مسجد میں ملی ہو، جیسے کسی کی گھڑی رہ گئی ہو، اس کا اعلان جائز ہے کہ فلاں چیز مسجد میں ملی ہے، جس کی ہو ،لے لے، نمازِ جنازہ کا اعلان بھی جائز ہے، اس کے علاوہ دُوسرے اعلانات جائز نہیں۔“
(كتاب الصلاۃ، مسجد کے مسائل، 261/3/ مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100176
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن