بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی اپنا قرض نہ لینے کی وصیت کرنا


سوال

 دو اشخاص کے درمیان کاروباری لین دین تھا، جس کے نتیجے میں ایک شخص دوسرے کا مقروض ہوگیا۔ کسی مجبوری کی وجہ سے وہ بروقت قرض ادا نہ کرسکا۔ بعد میں قرض خواہ نے اپنے بیٹوں سے یہ بات کہی تھی کہ:”اگر میرا انتقال ہوجائے تو تم اس شخص سے قرض وصول نہ کرنا، میں خود قیامت کے دن اس سے اپنا حق لوں گا۔“

بعد ازاں قرض خواہ کا انتقال ہوگیا۔ اب مقروض شخص قرض کی رقم ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن مرحوم کے ورثاء یہ کہتے ہوئے رقم لینے سے انکار کرتے ہیں کہ ہمارے والد نے ہمیں یہی وصیت کی تھی کہ ہم اس سے قرض وصول نہ کریں، اس لیے ہم رقم نہیں لیتے۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. مرحوم کی اس بات کا شرعاً کیا حکم ہے؟

2. کیا ورثاء کا قرض لینے سے انکار معتبر ہے؟

3. مقروض شخص اب اس قرض کی رقم کے بارے میں کیا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم قرض خواہ کی اس  وصیت کا  کہ تم اس شخص سے میرا قرضہ  نہ وصول کرنا میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے وصول کروں گا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، اس کے انتقال کے بعد اس کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق اس قرض میں شریک ہیں، ان کا والد کی وصیت کی وجہ سے قرض لینے سے انکار کرنا درست نہیں ہے۔

اور مقروض پر لازم ہے کہ  کسی طریقے سے وہ قرض اس قرض خواہ کے ورثاء کے حوالے کر دے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"يشترط لصحة الوصية عدم الكراهة."

(کتاب الوصایا ،ج:6،ص:690،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں