
میرے ابو نے میرے ماموں کے ساتھ گولڈ کا کام پارٹنرشپ میں شروع کیا تھا۔ دکان میرے ابو کی تھی، جب کہ کاروبار شروع کرنے اور گولڈ شاپ چلانے کے لیے ابتدائی سرمایہ یعنی سونا نانا نے دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں پارٹنرز ہر ماہ ایک مقررہ رقم برابر برابر نکالتے تھے۔ دکان پر جو سونا بڑھتا جاتا تھا، اسے بھی دونوں اپنی ضرورت کے مطابق برابر حصوں میں تقسیم کرکے نکالتے تھے، یعنی جس کو جب جتنی ضرورت ہوتی، وہ برابر حصہ لے لیتا تھا۔تقریباً 6 ماہ پہلے میرے ابو کا انتقال ہوگیا۔ ابو کے انتقال کے فوراً بعد ماموں نے پارٹنرشپ ختم کرنے کی بات کی، لیکن میری امی نے کہا کہ ابھی عدت کا وقت ہے، عدت کے بعد اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔ فی الحال کاروبار چلنے دیں۔ لیکن اب ماموں کا کہنا ہے کہ دکان تو آپ کے ابو کی تھی، لیکن چوں کہ شروع میں نانا نے سونا دیا تھا، اس لیے دکان میں موجود سارا مال ہمارا ہے اور اس میں آدھا آدھا حصہ نہیں ہوگا۔
حالاں کہ یہ تقریباً 30 سال پرانی پارٹنرشپ ہے۔ شروع میں نانا کی طرف سے دیا گیا سونا بہت کم مقدار میں تھا، جب کہ آج دکان میں موجود مال کروڑوں کا ہے۔ لیکن ماموں کا کہنا ہے کہ یہ سارا مال ہمارا ہے، کیوں کہ کاروبار شروع کرنے کے لیے سونا ہم نے لگایا تھا، اور آج جو مال بڑھا ہے، وہ بھی اسی ابتدائی سونے سے بڑھا ہے۔
میری امی بہت پریشان ہیں، کیوں کہ میرے ابو ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ آگے چل کر دکان میں جو بھی مال بڑھے گا، وہ دونوں پارٹنرز کا برابر برابر ہوگا۔
میرا کوئی بھائی نہیں ہے، اس لیے میرے ابو نے اس دکان پر بہت محنت کی تھی تاکہ اپنی بیٹیوں کے لیے کچھ چھوڑ کر جائیں اور ہمیں مستقبل میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن اب ماموں کا کہنا ہے کہ موجودہ مال میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے، کیونکہ کاروبار شروع کرنے کے لیے ابتدائی سونا انہوں نے لگایا تھا، اور ان کے مطابق بعد میں جو مال بڑھا، وہ بھی انہی کا ہے۔جب کہ میرے والد صاحب دکان کا کرایہ بھی وصول نہیں کرتے تھے۔
لہذا اس صورتِ حال کا شرعی کیا حکم ہے؟
وضاحت: میرے نانا نے میرے والد اور ماموں کو کہا تھا کہ اس سونے سے کاروبار شروع کرو، اس میں تم دونوں کی برابرپارٹنر شپ ہو گی، اور جب دکان چل گئی تھی، تو میرے والد اور ماموں نے وہ سونا جو نانا نے شروع میں دیاتھا، نانا کو واپس بھی کر دیا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کے نانا کے سونے سے جو ان کے ماموں اور والد نے برابر کی پارٹنر شپ پر کاروبار شروع کیا تھا، اور بعد میں نانا سے لیا ہوا وہ سونا واپس کر دیا تھا، توشرعاً مذکورہ کل کاروبار ، اس کی بڑھوتری اور نفع میں آپ کے ماموں اور والد برابر کے شریک ہیں، آپ کے ماموں کا یہ دعوی کرنا کہ "یہ سارا مال ہمارا ہے، کیوں کہ کاروبار شروع کرنے کے لیے سونا ہم نے لگایا تھا، اور آج جو مال بڑھا ہے، وہ بھی اسی ابتدائی سونے سے بڑھا ہے"،شرعاً درست نهيں، بلکہ ماموں پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ کل کاروبار ، اس کی بڑھوتری، نفع سب کچھ کو برابر تقسیم کر کے آدھاحصہ آپ کے والد کے شرعی ورثاء کے حوالے کریں، اورآپ کے والد مرحوم کے حصہ میں تمام شرعی ورثاء اپنے حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔
نیز جس دکان میں مذکورہ کاروبار شروع کیا گیا تھا، وہ دکان بھی آپ کے والد مرحوم کے تمام ورثاء کا حق ہے، آپ اپنے ماموں سے اس کی واپسی کا بھی مطالبہ کر سکتے ہیں۔
مجلۃ الأحکام العدلیہ میں ہے:
"يقسم الشريكان الربح بينهما على الوجه الذي شرطاه. يعني إن شرطا تقسيمه متساويا فيقسمانه على التساوي وإن شرطا تقسيمه متفاضلا كالثلث والثلثين مثلا فيقسم حصتين وحصة."
(الكتاب العاشر: الشركات، الباب السادس: في بيان شركة العقد، الفصل الخامس: في شركة الأموال والأعمال والوجوه من شركة المفاوضة، ص:268، ط:نورمحمد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويًا أو متفاضلًا، فلا شكّ أنه يجوز و يكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما و الوضيعة على قدر المالين متساويًا و متفاضلًا؛ لأنّ الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال."
(كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:6، ص:62 ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100060
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن