بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منہ بولی اولاد کے کاغذات میں ولدیت کی جگہ گود لینے والا کا اپنا نام درج کرنا


سوال

حضرت میں نے اپنی بیٹی اپنے بھائی کو دی ہے ان کی کوئی اولاد نہیں ہے،اور یہ بات سب کو پتہ ہے،اب وہ شناختی کارڈ میں والدین کی جگہ اپنا نام درج کرا سکتے ہیں،اس کی گنجائش ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  گود لیاہوا،منہ بولا بیٹا /بیٹی شرعا ًحقیقی اولاد نہیں کہلاتی ہے،محض گودلینےسےنہ حقیقی بچہ کہلاتاہے،اور نہ ہی اس پرحقیقی اولاد والے احکام جاری ہوں گے،اسی طرح گودلیے ہوئے بچے کو اس کےحقیقی والدین کی طرف منسوب کرنا ضروری  ہوتاہے۔لہذاکسی بھی قسم کے قانونی کاغذات  میں ولدیت لکھنے کی جگہ اصل والد ہی کا نام لکھنا ضروری ہے اور کسی کے پوچھنے پر ولدیت بتاتے وقت بھی حقیقی والد کا ہی نام بتانا ضروری ہے، لکھنے بولنے کسی بھی موقع پر ولدیت کی جگہ اصل والد کے علاوہ کسی بھی دوسرے شخص کا نام لینا یا لکھنا جائز نہیں، البتہ پالنے والے کا نام سرپرست کے طور پر لکھنا جائز ہے،لہذازیرِ نظر مسئلے میں سائل کے بھائی کا اپنی بھتیجی کولے پالک کے طورپرگود لیناجائزہے،البتہ سائل کےبھائی کا گود لی ہوئی بچی کے شناختی کارڈ میں  ولدیت لکھنے کی جگہ اپنانام درج کرناشرعاً جائزنہیں ،کاغذات میں ولدیت کی جگہ میں حقیقی والدین(سائل) کا نام درج کرناضروری ہے،تاہم سائل کابھائی بطورِ سرپرست اپنا نام درج کرواناچاہے،توشرعاً یہ جائز ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ  ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا "[الأحزاب: 4، 5]

ترجمہ:" اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔" (از بیان القرآن)

ریاض الصالحین میں ہے:

"367 - باب تحريم انتساب الإِنسان إِلى غير أَبيه وَتَولِّيه إِلى غير مَواليه

1/1802-عَنْ سَعْدِ بن أَبي وقَّاصٍ أنَّ النبيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قالَ: مَن ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أنَّهُ غَيْرُ أبِيهِ فَالجَنَّةُ عَلَيهِ حَرامٌ. متفقٌ عليهِ".

ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس شخص نے اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جانتے ہوئے اپنا والد قرار دیا تو اس پر جنت حرام ہے۔

(کتاب الأمورالمنہی عنہا،ص:500،ط: دارابنِ کثیر)

التفسیرالمظہری میں ہے:

"فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."

(سورۃ الأحزاب ج :7 ص :284، ط: رشيدية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144606102204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں