
میں موٹر سائیکل قسط پر دیتا ہوں اور اس کی صورت یہ ہے کہ جب کوئی خریدار آتا ہے تو میں موٹر سائیکل کی قیمت طے کرتا ہوں مثلا ایک لا کھ پچاس ہزار پچاس ہزر نقد لے لیتا ہوں اور اورلاکھ روپے قسط وار لیتا ہوںاور قسط کی ادائیگی کا وقت بھی متعین ہوتاہے اور قسط کی تاخیر پر کوئی جرمانہ وغیرہ بھی نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ میرا اس طرح کاروبار کرنا شرعا درست ہے یا نہیں ؟
اور اگر یہ موڑر سائیکل گاہک مجھے سے خرید کر لے گیا اور اس کے بعد اس سے چوری ہوگیا اور ابھی اقساط باقی ہیں تو کیا میں اپنی باقی قسطیں وصول کرسکتا ہوں یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں سائل کی ملکیت اور قبضہ میں اگر موٹر سائیکل موجود ہو، اور اس کے بعد باہمی رضامندی سے بائع اور خریدار ادھا ر (بیع بالتقسیط ) کا معاملہ کریں تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ ادھا رکا معاملہ کرتے ہوئے اس کی صحت کی تمام شرائط کی رعایت رکھی جائے، یعنی معاملہ متعین ہو، کہ ادھار میں خرید رہا ہے یا نقد میں خرید رہا ہے ،کل قیمت متعین ہو ،قیمت کی ادائیگی کی مدت متعین ہو، اور اس قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ کی شرط نہ ہو،اگر جرمانہ کی شرط ہوگی تو یہ معاملہ فاسد ہوجائےگا، الغرض زیر نظر معاملہ میں سائل کا مذکورہ طریقہ پر کاروبا ر کرنا شرعا جائز ہے۔
اسی طرح جب خرید وفروخت کا معاملہ مکمل ہوگیا، تو وہ موٹر سائیکل خریدار کی ہوگی، اب اگر وہ چوری ہوجائے تب بھی اس کو مکمل قیمت کی ادائیگی کرنی پڑے گی ،اور سائل کے لئے اپنی مکمل طے شدہ رقم لینا جائز ہے ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"إذا قال: بعتك هذا العبد بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين؛ لأن الثمن مجهول....فإذا علم ورضي به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد."
(كتاب البيوع، فصل في شروط الصحه، ج:5،/ ص:158، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ ایضا :
"فأما إذا هلك كله بعد القبض، فإن هلك بآفة سماوية، أو بفعل المبيع أو بفعل المشتري لا ينفسخ البيع، والهلاك على المشتري، وعليه الثمن؛ لأن البيع تقرر بقبض المبيع، فتقرر الثمن، وكذلك إن هلك بفعل أجنبي لما قلنا، ويرجع المشتري على الأجنبي بضمانه، ويطيب له الفضل؛ لأن هذا الفضل ربح ما قد ضمن، وإن هلك بفعل البائع ينظر إن كان المشتري قبضه بإذن البائع أو بغير إذنه، لكن الثمن منقود أو مؤجل فاستهلاكه واستهلاك الأجنبي سواء۔"
(فصل فی حکم البیع : ج:5،/ ص:239 ، ط : دار الکتب العلمیۃ)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے :
"البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط".
(الفصل الثانی فی بیان المسائل المتعلقۃ فی البیع بالتاجیل والنسیئۃ،ج:1ص:228،ط:دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100642
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن