بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

متعین تعداد درود شریف یا کسی خاص ورد وظیفہ کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کو مدعو کرنا


سوال

کیا مخصوص وقت میں مخصوص عدد   جو استطاعت سے باہر ہو ،کسی ورد یا درود شریف پڑھنے کا اہتمام کرنا، اور لوگوں کو اس مخصوص عدد کو پورا کرنے کے لیے مدعو کرنا، شریعت میں کیا حکم ہے؟ نیز اگر کوئی ساتھ میں یہ اعتقاد بھی رکھے کہ اس مخصوص ہی اس کی دعا قبول ہوگی۔

جواب

حضور ﷺ پر درود اور سلام پیش کرنے کے بہت سے فضائل احادیث میں وارد ہیں، اور درود شریف کا پڑھنا نہایت سعادت مندی اور بابرکت عمل ہے، قرآن وحدیث میں دورد شریف کی فضیلت اور اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، اوراحادیث میں اس کے پڑھنے کی جا بجا ترغیب دی گئی ہے، اور بالخصوص جمعہ اور شب جمعہ کو درود شریف پڑھنے کے خصوصیت کے ساتھ احادیث میں فضائل وارد ہیں، اور خود آپ ﷺ نے اور صحابہ کرام نے امت کو جمعہ کی رات درود شریف پڑھنے کی تاکید کی ہے، اور جمعہ کے دن خاص اہتمام کے ساتھ درود آپ ﷺ پر پیش کیا جاتا ہے،  لہذا   انفرادی  اور اجتماعی طور پر درود شریف پڑھنا جائز ہے اور ثواب کا باعث ہے، البتہ اجتماعی ہئیت پر درود شریف پڑھنے کو لازم اور ضروری سمجھنا درست نہیں ہے۔

نیزکسی جائز مقصد کے لیے وظیفہ  بھی فی نفسہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، بعض لوگوں کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھنے کے لیے مخصوص کلمات بتائے اور بعض مواقع پر کلمات کی مخصوص تعداد بھی بتائی ہے، لہٰذا وظیفہ کا اصل تو بلاشبہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور جس چیز کی اصل نص سے ثابت ہو، وہ بدعت نہیں ہوتی۔

لہذا صورت مسئولہ میں مخصوص عدد  درود شریف یا کوئی ورد پڑھنے کے لیے لوگوں  کو مدعو  کیا جاسکتا ہے، البتہ اس عمل کو لازم سمجھنا درست نہ ہو گا۔

شعب الایمان للبیھقی میں ہے:

"قال علي: من صلى على النبي صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة مائة مرة جاء يوم القيامة وعلى وجهه من النور نور يقول الناس أي شيء كان يعمل هذا".

(الصلوات،‌‌فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم،ج:3،ص:112،رقم:3036،ط:‌‌ دار الكتب العلمية،بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أولى الناس بي يوم القيامة ‌أكثرهم ‌علي ‌صلاة".

(كتاب الصلاة،‌‌باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم وفضلها،ج:2،ص:743،رقم:923،ط: دار الفكر، بيروت)

حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اﷲ علیہ بدعت کا اِصطلاحی مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

"المحدثه والمراد بها ما أحدث، وليس له أصلٌ في الشرع ويسمي في عرف الشرع ’’بدعة‘‘، وما کان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة بخلاف اللّغة : فإن کل شيء أحدث علي غير مثال يسمي بدعة، سواء کان محمودًا أو مذمومًا".

’’محدثہ امور سے مراد ایسے نئے کام کا ایجاد کرنا ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو۔ اسی محدثہ کو اِصطلاحِ شرع میں ’’بدعت‘‘ کہتے ہیں۔ لہٰذا ایسے کسی کام کو بدعت نہیں کہا جائے گا جس کی اصل شریعت میں موجود ہو یا وہ اس پر دلالت کرے۔ شرعی اعتبار سے بدعت فقط بدعتِ مذمومہ کو کہتے ہیں لغوی بدعت کو نہیں۔ پس ہر وہ کام جو مثالِ سابق کے بغیر ایجاد کیا جائے اسے بدعت کہتے ہیں چاہے وہ بدعتِ حسنہ ہو یا بدعتِ سیئہ۔‘‘( ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 13 : 253)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں