بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

موسیقی والی ویڈیوز بنانے کے متعلق شرعی حکم


سوال

میں سوشل میڈیا (Instagram) پر اسلامی ویڈیوز اور ریِلز بناتا ہوں جن میں دینی پیغام دیا جاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی ویڈیوز میں کبھی کبھی ہلکا بیک گراؤنڈ میوزک استعمال کرتا ہوں کیونکہ اس سے ویڈیو میں ایک خاص احساس اور موٹیویشن پیدا ہوتی ہے اور لوگ ویڈیو زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اسلامی مواد یا دینی پیغام والی ویڈیوز میں بیک گراؤنڈ میوزک استعمال کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟ اگر گنجائش ہے تو اس کی حد کیا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ ویڈیوز موسیقی کے ساتھ ساتھ جان دار کی تصاویر پر مشتمل ہوں تو اس صورت میں ایسی ویڈیوز    بنانا،دیکھنا، سننا اور شئیر کرنا ناجائز وحرام  ہے خواہ اس ویڈیو میں موسیقی شامل ہو یا نہ ہو، اور  اگر کسی ویڈیو میں اگرچہ جان دار کی تصاویر نہ ہو،  لیکن  بیک گراؤنڈ میں موسیقی ہو پھر بھی اس کو سننا اور شئیر کرنا  ناجائز و حرام  ہے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (‌إن ‌الذين ‌يصنعون ‌هذه ‌الصور ‌يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم)".

(كتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة، ج:5، ص:2220، ط:(دار ابن كثير دمشق)

ترجمہ:

"حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:وہ لوگ جو یہ تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے دن ان کو عذاب ہوگا، ان سے کہا جائے گا: جو کچھ تم نے بنایا، ان کو زندہ کرو۔"

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌الغناء ‌ينبت ‌النفاق ‌في ‌القلب كما ينبت الماء الزرع» . رواه البيهقي في «شعب الإيمان»".

(‌‌كتاب الآداب، باب البيان والشعر،الفصل الثالث، ج:3، ص:1355، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ:

"حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے ارشاد فرمایا : گانا دل میں نفاق کو اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔"

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"«وعن نافع رحمه الله ‌قال: ‌كنت ‌مع ‌ابن ‌عمر ‌في ‌طريق، ‌فسمع ‌مزمارا، فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر، ثم قال لي بعد أن بعد: يا نافع! هل تسمع شيئا؟ قلت: لا، فرفع أصبعيه من أذنيه، قال: كنت مع رسول الله فسمع صوت يراع، فصنع مثل ما صنعت. قال نافع: فكنت إذ ذاك صغيرا»

۔۔۔وفي شرح السنة: اتفقوا على تحريم المزامير والملاهي والمعازف، وكان الذي سمع ابن عمر صفارة الرعاة، وقد جاء مذكورا في الحديث، وإلا لم يكن يقتصر فيه على سد المسامع دون المبالغة في الرد والزجر، وقد رخص بعضهم في صفارة الرعاة اهـ.

ولعله كان صاحب اليراع يهوديا، من أهل الذمة أو بعيدا عن المواجهة، هذا وفي فتاوى قاضي خان: أما استماع صوت الملاهي كالضرب بالقضيب ونحو ذلك حرام ومعصية لقوله عليه السلام: " «استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها من الكفر» " إنما قال ذلك على وجه التشديد وإن سمع بغتة فلا إثم عليه، ويجب عليه أن يجتهد كل الجهد حتى لا يسمع لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أدخل أصبعه في أذنيه".

(كتاب الآداب، باب البيان والشعر، ج:7، ص:2024،25، ط:دار الفكر، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں