بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مورگیج پر گھر لینے کا حکم


سوال

میں   ہالینڈ میں اس وقت کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوں، یہ مکان حاصل کرنا آسان  نہیں تھا، اوسطا چار سے چھ  ماه مسلسل تلاش کے بعد ہی کوئی معقول جگہ ملتی ہے، ایک  کرائے کی جگہ کے لیے دو سے  تین سو افراد درخواست دیتے ہیں، یہ عمل کافی مقابلہ طلب، وقت طلب، اور مایوس کن ہوتا ہے، اور جب کوئی  مکان مل بھی  جائے تو کرائے  بہت زیادہ ہوتے ہیں اور مسلسل بڑھتے رہتے ہیں۔

ہالینڈ  میں اکثر کرائے کے معاہدے عارضی ہوتے ہیں، اور طویل مدتی تحفظ فراہم نہیں کرتے ،یہ معاہدے عموما ایک یا  دو سال کے لیے ہوتے ہیں، جس کے بعد مالک مکان کرایہ بڑھا سکتا ہے یا معاہدہ ختم کر سکتا ہے ،یہ  صورت ِحال خاص طور پر خاندان والوں کے لیے عدم استحکام اور پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

ایک اور عملی مشکل جس کا میں سامنا کر رہا ہوں، وہ بڑی فیملیز کے ساتھ امتیازی سلوک ہے،ہالینڈ میں خاندان عموماً چھوٹے ہوتے ہیں، اور اکثر مالک مکان صرف ایک بچے والے جوڑوں کو ترجیح دیتے ہیں، جب میں  اپنے بچوں  کی تعداد بتاتا ہوں (دو سے زائد )تو مجھے اکثر انکار یا  نظر انداز کر دیا جاتا ہے، ان کے تحفظات میں شور،نقصان ،یا دیگر بے بنیاد باتیں شامل ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے مناسب مکان حاصل کرنا میرے جیسے فرد کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

میرا گھر خریدنے کا ارادہ نہ تو سرمایہ کاری کے لیے ہے، نہ ہی عیش و عشرت کے لیے، میں صرف اپنے خاندان کے لیے ایک پائیدار، محفوظ اور مستقل رہائش چاہتا ہوں، موجودہ حالات میں طویل مدتی کرایہ پر رہنا نہ صرف مالی طور پر نقصان دہ ہے ،بلکہ ذہنی طور پر بھی بہت تھکا دینے والا ہے۔

ہالینڈ میں تقریبا تمام گھروں کی خریداری روایتی بینک مورگیج کے ذریعے کی جاتی ہے، جو سود پر مبنی ہوتے ہیں،بد قسمتی سے یہاں  اسلامی فنانسنگ کے متبادل جیسے مرابحہ، اجاره، یا مشارکه کسی بھی بینک میں دستیاب نہیں ہیں۔

ہالیند میں مورگیج پر مکان دینے کی یہ صورت ہوتی ہےکہ  جب مورگیج منظور ہوجاتا  اور معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو بینک وہ رقم براہ راست بیچنے والے کو منتقل کردیتا ہے، اور مکان فوراً خریدار کے نام پر رجسٹر ہو جاتا ہے، یعنی خریدار پہلے دن سے ہی قانونی طور بر مکان کا مالک بن جاتا ہے، حالاں کہ وہ بینک کو قرض کی رقم واجب الادا رکھتا ہے۔

قرض کی  واپسی عام طور پر 30 سال کے مقررہ عرصے میں ماہانہ اقساط کے ذریعے کی جاتی ہے ۔ یہ اقساط دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں:

1- اصل رقم( Principal)جو قرض کا اصل حصہ کم کرتی ہے۔

2-سود (interest)جو قر ض لینے کی قیمت کے طور پر بینک کو ادا کیا جاتا ہے۔

سود اور اصل رقم کے درمیان تناسب کا انحصار مورگیج کی قسم پر ہوتا ہے۔ بالینڈ میں تین اہم اقسام کی مورگیج دستیاب ہوتی ہیں:

1-(annuity mortgage)

یہ سب سے عام قسم ہے،اس میں ہر ماہ ایک ہی جیسی کل قسط ادا کی جاتی ہے ،لیکن اس قسط کے اندر سود اور اصل رقم کا تناسب وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے،شروع کے سالوں میں قسط کا بڑا حصہ سود پر مشتمل ہوتا ہے،اور اصل قرض کی ادائیگی معمولی ہوتی ہے،وقت کے ساتھ ساتھ سود کم ہوتا رہتاہے،اور اصل رقم کا حصہ بڑھ جاتا ہے۔

2-(linear mortgage)

اس قسم میں ہر ماہ اصل قرض کا  ایک برابر حصہ ادا کیا جاتا ہے،اور سود صرف باقی بچی ہوئی رقم پر لگتا ہے،اس وجہ سے شروع میں قسط کی مجموعی رقم زیادہ ہوتی ہے،لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے قرض کم ہوتا جاتا ہے،سود بھی کم ہوجاتا ہے،اور قسطیں گھٹتی جاتی ہیں۔

3-(interest-only mortgage)

اس ماڈل میں صرف سود  کی ادائیگی کی جاتی ہے،اور اصل قرض کی رقم پوری مدت میں بلکل بھی کم نہیں ہوتی،مدت کے اختتام پر (مثلا 30 سال بعد)پوری اصل رقم واپس کرنی پڑتی ہے،یہ مورگیج صرف محدود رقم (عموما 50 فیصد )تک دستیاب ہوتا ہے،اور عام طور پر کسی مورگیج کے ساتھ جوڑ کر استعمال کیا جاتا ہے۔

میں نے پوری کوشش کی ہے کہ حلال متبادل تلاش کرسکوں،مگر ہالینڈ میں اس وقت کوئی  اس کے علاوہ گھر خریدنے کا  اور کوئی طریقہ نہیں ہے،میں قرض کی مدت کم رکھنے ،اور اضافی ادائیگیوں کے  ذریعے سودی بوجھ کم کرنے کیے تیار ہوں،نیز اگر کوئی طریقہ ہے  کہ واجب الاداء سود کو کسی انداز میں صاف یا ختم  کیا جاسکے (مثلا صدقہ وغیرہ)تو میں اس پر عمل کرنے کو تیار ہوں۔

کیا ایسے حالات میں ہالینڈ میں روایتی مورگیج لیناشرعا جائز ہے؟اگر یہ بالکل جائز نہیں تو کیا کوئی اضطراری رعایت یا رخصت اس پر لاگو ہوتی ہے؟کیا آپ کوئی ایسا متبادل طریقہ تجویز فرمائیں گےجو اسلامی اصولوں کے قریب ہو؟

 

جواب

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،   جس میں سود کا لینا اور دینا دونوں شامل ہے، یعنی جس طرح سود پر قرضہ دینا حرام ہے، اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، لہذا اس قسم کے قرضہ لینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

 صورتِ مسئولہ میں مذکور ہاؤس مورگیج (mortgage)  کی تینوں اقسام   سودی قرضے کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے بینک  گھر خریدنے میں تعاون کے لیے جو رقم دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں، اس کا لین دین جائز نہیں ہے،   سود کا معاملہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، بے شمار قرآنی آیات اوراحادیث میں اس کی شناعت اور قباحت ذکر ہوئی ہے، لہذا   میں ہاؤس مورگیج کے ذریعے گھر خریدنا جائز نہیں ہے۔

اگر وہاں رہائش کی صورت میں  گھر خریدنا ضروری ہی ہو تو کسی سے غیر سودی قرض لینے کی کوشش کیجیے؛ تاکہ سود کی لعنت سے بچ سکیں ،اور اس کے جائز ہونے کی دوسری  صورت یہ ہے کہ بینک یا کوئی بھی شخص از خود  اس گھر کو خریدلے ،پھر سائل اس شخص سے زائد    نفع کے ساتھ متعین قیمت پر قسط وار  خرید لے۔

نیز  اگر کسی ملک میں مسلمان کے لیے حلال سے اپنی ضروریات پوری کرنا ناممکن یا مشکل ہوجائے تو مسلمان کو چاہیے کہ ایسے ملک میں منتقل ہوجائے جہاں شرعی احکام پر چلنا آسان ہو، خصوصاً جب کہ باہر ملک  میں رہنے والا وہاں کا اصل باشندہ نہ ہو تو اس کے لیے صرف کسبِ معاش یا دنیاوی معیارِ زندگی بلند کرنے کی خاطر  وہاں جانا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر  منفعة،ج:14، ص:513، ط: ادارۃ القرآن) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں