
ہمارےتایا کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں چار بہنیں(ہماری چار پھوپھیاں)، تین بھتیجےاورایک بھتیجی ہے۔
میرے تایا نے مرنے سے پہلے اپنی پوری جائیداد اور دیگر اثاثہ جات کی ہم بہن بھائیوں کے لیے وصیت کی تھی، میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا ہماری چار پھوپھیوں کا اس جائیداد میں شرعاحصہ ہے یا نہیں؟
نوٹ: تایا کی زندگی میں ان کے والدین ، بیوی اور بھائیوں کا انتقال ہوگیا تھا، نیزتایا کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ہر شخص کو اپنے مال میں ایک تہائی تک وصیت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے،اگرتمام ورثاءعاقل بالغ ہوں اوروہ اجازت دے دیں توایک تہائی سے زیادہ کی وصیت نافذ ہوجاتی ہے اگر ورثاءاجازت نہ دیں توایک تہائی سے زیادہ کی وصیت باطل ہوجاتی ہے، اسی طرح اپنے شرعی ورثاء کے لیے وصیت کرناجائز نہیں ہے،شرعی وارث کے لیے وصیت دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، اگرتمام ورثاءعاقل بالغ ہوں اوروہ اجازت دے دیں تو وارث کے لیے کی گئی وصیت بھی نافذہوجاتی ہے اور اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو وارث کے لیے کی گئی وصیت باطل ہوجاتی ہے۔
صورت مسئولہ میں تایاکا اپنےشرعی ورثاء(بھتیجوں)کےلیے وصیت کرنا جائز نہیں تھا،اسی طرح غیر وارث (بھتیجی)کے لیے کل مال کی وصیت کرناجائز نہیں تھا،لہذایہ وصیت تایا کے دیگر شرعی ورثاء(یعنی تایاکی بہنوں) کی اجازت پر موقوف ہوگی، اگر تایا کے دیگرشرعی ورثاء(یعنی بہنیں)اجازت دے دیں تو وصیت نافذ ہوجائے گی، اور اگر تایا کے دیگر شرعی ورثاء(یعنی بہنیں)اجازت نہ دیں تو بھتیجوں کے حق میں یہ وصیت باطل ہوجائے گی اور (بھتیجی ) کے حق میں صرف ایک تہائی تک وصیت نافذ ہوگی اور اس کوکل متروکہ مال کےایک تہائی کاچوتھاحصہ ملےگانیز تایا کی بہنیں یعنی سائل کی پھوپھیاں تایا کی متروکہ جائیداد میں شرعاحصہ دار ہیں۔
تایا مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہوتواس کواداکرنے کےبعد، مرحوم نے جوکل ترکہ کی وصیت کی ہے اس کل ترکہ کے ایک تہائی کا چوتھائی حصہ مرحوم کی بھتیجی کےلیے نکالنےکے بعد، بقیہ کل ترکہ کو 18 حصوں میں تقسیم کرکے 3 حصے مرحوم کی ہرایک بہن کواور 2حصےمرحوم کے ہرایک بھتیجے کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگی:
میت: 18/3
| بہن | بہن | بہن | بہن | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا |
| 2 | 1 | |||||
| 3 | 3 | 3 | 3 | 2 | 2 | 2 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے16.66فیصد مرحوم تایا کی ہرایک بہن کواور11.11فیصد مرحوم کے ہر ایک بھتیجے کو ملےگا۔
مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:
"(ولا تصح) الوصية (بما زاد على الثلث) لقوله عليه الصلاة والسلام في حديث سعد بن أبي وقاص - رضي الله تعالى عنه - أنه قال «جاء رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم - يعودني من وجع اشتد بي فقلت يا رسول الله قد بلغ بي من الوجع ما ترى وأنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي أفأتصدق بثلثي مالي قال لا قلت فالشطر يا رسول الله قال لا قلت فالثلث قال الثلث والثلث كثير أوكبير إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير لك من أن تدعهم عالة يتكففون الناس»...(ولا لوارثه) لقوله عليه الصلاة والسلام «إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه ألا لا وصية لوارث» ولأن بقية الورثة يتأذون بإيثاره بعضهم ففي تجويزه قطعية الرحم (إلا بإجازة الورثة) استثناء مما تقدم من عدم الصحة بما زاد على الثلث، وعدم صحة الوصية لقاتله ووارثه يعني لا تصح الوصية بما زاد على الثلث ولا للقاتل ولا للوارث في حال من الأحوال إلا في حال التباسها بإجازة الورثة فتصح حينئذ؛ لأن عدم الجواز كان لحقهم فتجوز بإجازتهم ولما روى ابن عباس - رضي الله تعالى عنهما - أنه عليه الصلاة والسلام قال «لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة» ويشترط أن يكون المجيز من أهل التبرع بأن يكون عاقلا بالغا، وإن أجاز البعض دون البعض يجوز على المجيز بقدر حصته دون غيره لولايته على نفسه فقط."
(كتاب الوصايا، ج: 2، ص: 692، ط: دار الطباعة العامرۃ بترکیا)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية....ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 90، ط: دار الفکر بیروت)
وفیہ ایضا:
"إذا أوصى لأجنبي ووارثه كان للأجنبي نصف الوصية وبطلت الوصية للوارث."
(كتاب الوصايا، الباب الثالث في الوصية بثلث المال، ج: 6، ص: 106، ط: دار الفکر بیروت)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"(وإن قال لولد فلان الذكر والأنثى فيه سواء) ؛ لأنه لا دلالة على التفضيل واللفظ يتناول الكل لأن الولد اسم لجنس المولود ذكرا كان أو أنثى واحدا أو أكثر."
(کتاب الوصایا، فصل الوصية للجيران والأصهار والأختان والأهل، ج: 5، ص: 81، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100303
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن