بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوربین کے ذریعے رؤیت ہلال


سوال

آسٹریلیا میں رویت ہلال کے سلسلے میں کئی مسائل ہیں اور مختلف آراء ہیں :

۱)حساب فلکی پر عمل کرتے ہوئے مہینہ کے شروع ہونے سے قبل رمضان و عید کا اعلان کر دیتے ہیں۔۔۔۲)عالمی رؤیت پر عمل کرتے ہیں ۔۔۔۳)پڑوسی ممالک کی رؤیت پر علم کرتے ہیں۔۔۔۴) مقامی رؤیت پر عمل کرتے ہیں۔

ان اختلافات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی تین اور کبھی دو عیدیں ہوتی ہیں ۔ ان اختلاف کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا مگر کم کیا جا سکتا ہے، اس طرح سے اگر دوربین (Optical aid) کا استعمال کیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ امکان رؤیت کی صورت میں چاند نظر آجائے ۔ اگر امکان رؤیت نہ ہو تو پھر دور بین (Optical aid) سے بھی چاند نظر نہیں آئے گا۔

وضاحت: جو علماء مقامی رؤیت پر عمل کرتے ہیں ان میں ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ دور بین (Optical aid) کا استعمال جائز نہیں کیونکہ دور بین (Optical aid) سے اصل چاند کی رویت نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک تصویر (image) ہے جو کیمرہ نکال کر دکھاتی ہے، جبکہ جو علماء جو دور بین (Optical aid) سے رؤیت کو قبول کرتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم اس دور بین (Optical aid) کی بات کر رہے ہیں جو امکان رؤیت کی شکل میں صرف چاند کو دیکھتی ہے ، بادلوں کو پھاڑ کر تصویر (image) نہیں نکال کر لاتی.

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے Optical aid کا استعمال شرعی طور پر درست ہے جو صرف قدرتی رؤیت کے امکان کی صورت میں چاند کو واضح کرتا ہے اور کوئی مصنوعی عکس پیش نہیں کرتا؟

امید ہے کہ مدلل و تشفی بخش جواب سے نوازیں گے ۔ بینوا توجروا

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی مسلمان قاضی یا حاکم کا فیصلہ صرف اسی کی ولایت میں معتبر اور نافذ العمل ہوتا ہے، دوسری ولایت یاریاست کے لیے اس کا فیصلہ قابل عمل نہیں۔لہٰذا صورت مسئولہ میں آسٹریلیا میں رؤیت ہلال سے متعلق جن آراء کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سےصرف آخری رائے درست ہے، باقی ابتدائی تین آراء شرعی ضابطے کے خلاف ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ:

۱) شریعت نے قمری مہینے  کی ابتداءکا مدار  چاند کی رؤیت پر رکھا ہے، چاند کا عملی مشاہدہ کیےبغیر  محض فلکی حسابات پر عمل کرتے ہوئے چاند کا فیصلہ کرنا شرعاً درست نہیں۔

۲)پوری دنیا میں کسی بھی ملک کی رؤیت کے فیصلے پر اپنے ملک میں عمل کرنا درست نہیں، بلکہ ہر ملک کا باشندہ اپنے قاضی کے حکم کا تابع ہے، دوسرے ملک کے قاضی  کو اس پر ولایت حاصل نہیں، لہٰذا اس کے فیصلہ پر عمل کرنا بھی اس لیے درست نہیں۔یہی حکم پڑوسی ملک کی رؤیت پر عمل کرنے سے متعلق بھی ہے۔

باقی دوربین کے ذریعے چاند کی رؤیت سے متعلق حکم یہ ہے کہ  شریعت نے رؤیت ہلال کے معاملہ کو بہت سہل اور آسان رکھا ہے اور ہر قسم کے تکلف سے پاک رکھا ہے تا کہ ہر زمانے اور ہر مکان کے لوگ سہولت سے اسلامی مہینوں کی ابتداء اور انتہاء کو پہچان سکیں اور احکامات مثلار وزہ، عید اور حج وغیرہ کو بسہولت بجا لا سکیں۔ پس اس سہولت کے پیش نظر شریعت اسلامیہ نے اسلامی مہینے کی ابتداء اور انتہاء کا مدار انسانی آنکھ سے چاند کو دیکھنے پر رکھا ہے، مسلمانوں کو شریعت نے اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ دور بین و غیرہ کا استعمال کر کے چاند دیکھیں۔ البتہ اگر کوئی تکلف کرتا ہے اور دور بین کا استعمال کر کے چاند کو دیکھتا ہے، اور وہ   دوربین ایسی ہو جو عینک کی مانند محض دور کی چیزوں کو بڑا  اور قریب کردیتی ہو، گویا کہ نظر کو تیز کردے، کوئی غیر موجود چیز تخلیق نہ کرتی ہو، تو ایسی دوربین کا استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔ اور اس کے ذریعے کی گئی رؤیت کا شرعا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ ایسی دوربین کے ذریعہ سے دیکھنا بھی انسانی آنکھ سے دیکھنا ہی ہے ،لہذا جب مدار حکم (انسانی آنکھ سے دیکھنا) پایا گیا تو پھر حکم ( نئے ماہ کی ابتداء) بھی پایا جائے گا ۔البتہ ایسی دوربین یا آلہ جو آسمان پر غیر موجود چاند کو تخلیق کر کے دکھا دے، یاافق کے نیچے موجود چاند کو بھی دکھاتا ہو یا پھر اس کی بینائی اتنی دور تک ہو کہ کسی دوسرے مطلع کا چاند دکھاتا ہو  تو پھر ایسے آلہ کے ذریعہ رؤیت معتبر نہیں ہو گی ۔

امداد الفتاوی میں ہے:

دور بین محض آله تحدید بصر است و رویت بصر واقع است پس حکمش مثل عینک باشد و بریس دیدن رویت که مدار و جواب احکام ست صادق بس لا محاله صحیح و معتبر و مناط احکام باشد البته اگر بدلائل فن این امر به ثبوت پیوند که خاصیت آن دور بین چنین است که بلال با وجود تحت افق بودن بواسطه آن بنظر می آید که شمس هم با وجود عدم طلوع از افق در ان طالع می نماید آرے صحیح و معتبر نباشد ۔ "

(کتاب الصوم والاعتکاف ج نمبر ۲ ص نمبر ۱۴۰، دار الاشاعت )

امداد المفتیین میں ہے :

" چاند دیکھنے کے لیے ہوائی جہاز میں پرواز کرنے کا اہتمام کئی وجہ سے مناسب نہیں، اول تو ایک قسم کا غلو ہے جس کی نظیر عہد رسالت اور قرون خیر میں نہیں ملتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بناء علیہ جو شہادت بذریعہ ہوائی جہاز ایسے بلاد بعیدہ سے یا اتنی بلندی سے آئے جہاں اختلاف مطالع ہو سکتا ہے وہ شہادت اس جگہ کے لئے قابل قبول ہی نہیں۔ "

(کتاب الصوم، فصل فی رویت ہلال ج نمبر ۲ ص نمبر ۴۰۵، دار الاشاعت )

         نیل الأوطار میں ہے:

"وقد تمسك بحديث كريب هذا من قال: إنه لا يلزم أهل بلد رؤية أهل بلد غيرها.

وقد اختلفوا في ذلك على مذاهب ذكرها صاحب الفتح :

(أحدها): أنه يعتبر لأهل كل بلد رؤيتهم ولا يلزمهم رؤية غيرهم.

حكاه ابن المنذر عن عكرمة والقاسم بن محمد وسالم وإسحق.وحكاه الترمذي عن أهل العلم ولم يحك سواه. وحكاه الماوردي وجها للشافعية.

(وثانيها): أنه لا يلزم أهل بلد رؤية غيرهم إلا أن يثبت ذلك عند الإمام الأعظم فيلزم الناس كلهم، لأن البلاد في حقه كالبلد الواحد، إذ حكمه نافذ في الجميع، قاله ابن الماجشون.

(وثالثها): أنها إن تقاربت البلاد كان الحكم واحدا وإن تباعدت فوجهان؛ لا يجب عند الأكثر، قاله بعض الشافعية. واختار أبو الطيب وطائفة الوجوب، وحكاه البغوي  عن الشافعي.

وفي ضبطه البعد أوجه:

(أحدها): اختلاف المطالع، قطع به العراقيون والصيدلاني، وصححه النووي في الروضة وشرح المهذب.

(ثانيها): مسافة القصر، قطع به البغوي، وصححه الرافعي والنووي.

(ثالثها): باختلاف الأقاليم، حكاه في الفتح.

(رابعها): أنه يلزم أهل كل بلد لا يتصور خفاؤه عنهم بلا عارض دون غيرهم، حكاه السرخسي.

(خامسها): مثل قول ابن الماجشون المتقدم.

(سادسها): أنه لا يلزم إذا اختلفت الجهتان ارتفاعا وانحدارا، كأن يكون أحدهما سهلا والآخر جبلا، أو كان كل بلد في إقليم، حكاه المهدي في البحر عن الإمام يحيى والهادوية.

وحجة أهل هذه الأقوال حديث كريب هذا.

ووجه الاحتجاج أن ابن عباس لم يعمل برؤية أهل الشام، وقال في آخر الحديث: هكذا أمرنا رسول الله صلي الله عليه وسلم.

فدل ذلك على أنه قد حفظ من رسول الله صلي الله عليه وسلم أنه لا يلزم أهل بلد العمل برؤية أهل بلد آخر.

واعلم أن الحجة إنما هي في المرفوع، من رواية ابن عباس، لا في اجتهاده الذي فهمه عنه الناس، والمشار إليه بقوله: "هكذا أمرنا رسول الله صلي الله عليه وسلم هو قوله: فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين."

(باب الهلال إذا رآه أهل بلدة هل يلزم بقية البلاد الصوم،4 / 230، ط؛ دار الحديث، مصر)

       فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"الفتاوی النسفیة: سئل عن قضاء القاضي برؤیة هلال شهر رمضان بشهادة شاهدین عند الاشتباه في مصر، هل یجوز لأهل مصر آخر العمل بحکمهم؟ فقال:لا، ولایکون مصرآخر تبعاً لهذا المصر، إنما سکان هذا المصر وقراها یکون تبعاً لهم". 

(کتاب الصوم، الفصل  الثانی، 3/365، رؤیۃ الہلال، ط؛ زکریا ، دیوبند)

حضرت مولانا مفتی محمود ؒ    ”زبدۃالمقال فی رؤیۃالھلال“  میں تحریر فرماتےہیں:

"إذا ثبت الصوم أو الفطر عند حاکم تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء أو عند واحد أو جماعة من العلماء الثقات ولاّهم رئیس المملکة أمر رؤیة الهلال، وحکموا بالصوم أو الفطر  ونشروا حکمهم هذا في رادیو، یلزم علی من سمعها من المسلمین العمل به في حدود ولایتهم، وأما فیما وراء حدود ولایتهم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلک الولایة بشهادة شاهدین علی الرؤیة أو علی الشهادة أو علی حکم الحاکم أو جاء الخبر مستفیضاً، لأن حکم الحاکم نافذ في ولایته دون ما وراءها".

 (زبدۃ المقال فی رؤیۃ الھلال،  بحوالہ  خیر الفتاوی، 4/118،  ط؛ مکتبۃ الخیر ملتان)

         جواہر الفقہ میں ہے:

’’اور  جس طرح  ایک شہر کے قاضی یا ہلال کمیٹی کا فیصلہ اس شہر اور اس کے مضافات کے لیے واجب العمل ہے اسی طرح اگر کوئی قاضی یا مجسٹریٹ یا ہلال کمیٹی  پورے ضلع یا صوبہ یا پورے ملک  کے لیے ہو تو اس کا فیصلہ  اپنے اپنے حدود ولایت میں واجب العمل ہوگا‘‘۔

( مسئلہ رؤیت ہلال، 3/484،ط؛ مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں