
واقعہ یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر پیش آیا، تو ہندوستان سے ایک بادشاہ اس کی تصدیق کے لیے گیا، اور چند چیزیں بطورِ گفٹ حضور کی خدمت میں پیش کی، جن میں چھالیا، گنڈیری (کتھا) اور ایک نامعلوم چیز تھی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے ساتھ چونا نہیں ہے، میں کیسے کھاؤں؟ یہ روایت ثابت ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں جس روایت کا ذکر کیا گیا ہے،!یہ روایت ہمیں کافی تلاش کے باوجود حدیث کی معتبرکتابوں میں سے نہیں مل سکی،لہذا جب تک کسی معتبر کتاب اور سند سے نہ مل جائے اس وقت تک بیان کرنا درست نہیں ہے۔ تاہم مذکورہ روایت کے قریب ایک اور روایت "الطبقات الكبير لابن سعد"، "المعجم الأوسط للطبراني"، "المستدرك على الصحيحين للحاكم"، "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للهيثمي"، اور "إتحاف المهرة لابن حجر العسقلاني"وغیرہ کتابوں میں موجود ہے، جو ہندستان کے ایک بادشاہ کے تحفہ سے متعلق ہے، کہ: ”ہندوستان سے آنے والے راجا نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اچار پیش کیا، اس میں ادرک بھی موجود تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ وہاں موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تقسیم کردیا۔“ وغیرہ، لیکن یہ روایت بھی سندی حیثیت سے مضبوط نہیں ہے، اس روایت کو بھی بیان کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
مستدرک حاکم میں ہے:
"حدثنا علي بن حمشاذ العدل، ثنا العباس بن الفضل الأسفاطي، ومحمد بن غالب، قالا: ثنا عمرو بن حكام، ثنا شعبة، أخبرني علي بن زيد، قال: سمعت أبا المتوكل، يحدث عن أبي سعيد الخدري، رضي الله عنه قال: أهدى ملك الهند إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم جرة فيها زنجبيل فأطعم أصحابه قطعة قطعة وأطعمني منها قطعة.
قال الحاكم رحمه الله تعالى: "لم أخرج من أول هذا الكتاب إلى هنا لعلي بن زيد بن جدعان القرشي رحمه الله تعالى حرفاً واحدًا، ولم أحفظ في أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم الزنجبيل سواه فخرجته."
(كتاب الأطعمة، حديث عمر، 4/ 150، ط: دار الكتب العلمية)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ حدیث بالا سے متعلق فرماتے ہیں:
"هذا مما ضعفوا به عمراً، تركه أحمد."
مجمع الزوائد میں ہے:
"عن أبي سعيد الخدري قال: "أهدى ملك الروم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم هدايا وكان فيما أهدى إليه جرة فيها زنجبيل فأطعم كل إنسان قطعة وأطعمني قطعة". رواه الطبراني في الأوسط وفيه عمرو بن حكام، وقد اتهم بهذا الحديث وهو ضعيف."
(كتاب الأطعمة، باب في الزنجبيل، 5/ 45، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101546
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن