بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم میں کھچڑا پکانے کا حکم


سوال

محرم الحرام میں کھچڑاپکانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں آج کے دور میں  محرم الحرام میں   ”کھچڑا“  بنانے کا التزام کرنا چوں کہ اہلِ  باطل کا شعار بن چکا ہے،  اس لیے  ان دنوں میں اس سے مکمل اجتناب کیا جائے؛  تاکہ ان کی مشابہت سے بچ جائیں؛ فساق و فجار کی مشابہت اختیار کرنا شرعاً ممنوع ہے۔  حدیث شریف میں ہے  کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے اس کا شمار اسی قوم میں ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں باری تعالی کا ارشاد ہے:

"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيْرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ ."(البقرۃ، الآیۃ: 173).

ترجمہ:”اللہ نے تو تم پر صرف حرام کیاہے مردار کو اور خون کو(جو بہتا ہو) اور خنزیر کے گوشت کو(اسی طرح کے سب اجزاء کو بھی) اور  ایسے جانور کو جو (بقصد تقرب) غیراللہ کیلئے نامزد کردیا ہو۔“(بیان القرآن)

الزواجر عن اقتراف الکبائر میں ہے:

"وقال مالك بن دينار: أوحى الله إلى ‌نبي ‌من ‌الأنبياء أن قل لقومك لا يدخلوا مداخل أعدائي: ولا يلبسوا ملابس أعدائي، ولا يركبوا مراكب أعدائي، ولا يطعموا مطاعم أعدائي فيكونوا أعدائي كما هم أعدائي"

(خاتمة في التحذير من جملة المعاصي كبيرها وصغيرها، ج:1، ص:23، ط: دار الفكر)

ترجمہ: ”مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انبیاءِ سابقین میں سے ایک نبی کی طرف اللہ کی یہ وحی آئی کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ نہ میرے دشمنوں کے  داخل ہونے کی جگہ میں داخل ہوں اور نہ میرے دشمنوں جیسا لباس پہنیں اور نہ ہی میرے دشمنوں جیسے کھانے کھائیں اور نہ ہی میرے دشمنوں جیسی سواریوں پر سوار ہوں (یعنی ہر چیز میں ان سے ممتاز اور جدا رہیں)ایسا نہ ہوکہ یہ بھی میرے دشمنوں کی طرح میرے دشمن بن جائیں۔“

فتاوی شامی میں ہے:

"واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك، ولا سيما في هذه الأعصار وقد بسطه العلامة قاسم في شرح درر البحار، ولقد قال الإمام محمد: لو كانت العوام عبيدي لأعتقتهم وأسقطت ولائي وذلك لأنهم لا يهتدون فالكل بهم يتغيرون.

وفي الرد: مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك. ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر،۔۔۔ (قوله ولقد قال إلخ) ذكر ذلك هنا في النهر، ولا يخفى على ذوي الأفهام أن مراد الإمام بهذا الكلام إنما هو ذم العوام والتباعد عن نسبتهم إليه بأي وجه يرام ولو بإسقاط الولاء الثابت الانبرام، وذلك بسبب جهلهم العام وتغييرهم لكثير من الأحكام، وتقربهم بما هو باطل وحرام؛ فهم كالأنعام يتغير بهم الأعلام، ويتبرءون من شنائعهم العظام كما هو أدب الأنبياء الكرام حيث يتبرءون من الأباعد والأرحام بمخالفتهم الملك العلام فافهم ما ذكرناه والسلام."

(كتاب الصوم، ج:2، ص:439/440، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں