بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تفہیم القرآن کو ماخذ بناکر درس قرآن دینے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی عورتوں نے گھروں میں تفسیر پڑھانے کی ترتیب بنائی ہیں،اور ہفتہ میں ایک مرتبہ ارد گرد کی عورتیں جمع ہو کر  اس میں شرکت کرتی ہیں،اور یہ تفسیر ہمارے ہی گھر میں ہوتا ہے،ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن سے تفسیر کرتی ہیں،اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ تفسیر نہیں پڑھانی چاہئے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ترتیب کو جاری رکھیں اور یہی تفسیر پڑھایا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی تفہیم القرآن ہی ان خواتین کے درس کا بنیادی ماخذ ہے، تو ایسی مجلس کو جاری رکھنا درست نہیں، بلکہ اس سے احتراز ضروری ہے۔ قرآنِ کریم کی صحیح فہم و تفسیر کے لیے لازم ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے معتمد مفسرین کی تفاسیر کو اختیار کیا جائے، تاکہ عقائد و افکار میں کسی قسم کا انحراف پیدا نہ ہو۔

تفہیم القرآن اگرچہ بظاہر عام فہم اور ادبی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد و منہج سے انحراف پایا جاتا ہے، بعض مقامات پر انبیاءِ کرام علیہم السلام کے متعلق تعبیرات میں ادبِ نبوت کے خلاف اسلوب ملتا ہے، بعض صحیح احادیث و آثار کی تاویل یا رد کیا گیا ہے، فقہی و اعتقادی مسائل میں اہلِ سنت کے موقف سے اختلاف ظاہر ہوا ہے، اور کئی جگہ سیاسی و فکری رنگ غالب ہے جس سے خالص تفسیر کا علمی توازن متاثر ہوتا ہے۔

انہی وجوہات کی بنا پر اکابرینِ دیوبند نے اس تفسیر کو عوام میں پڑھنے اور پڑھانے سے منع فرمایا ہے، اور اس کے بجائے ایسی تفاسیر اختیار کرنے کی تاکید فرمائی ہے، جو صحیح عقائد اور متوارث منہج پر مبنی ہوں، جیسے معارف القرآن (مفتی محمد شفیعؒ)اور (مولانا ادریس کاندھلویؒ )بیان القرآن (مولانا اشرف علی تھانویؒ)، تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیراحمد عثمانیؒ) آسان ترجمہ قرآن (مولانا مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتہم)، جو واضح، معتدل اور اہلِ سنت کے منہج پر مستند ہیں۔

مزید برآں، اگر آپ مودودی صاحب اور ان کی فکری آراء کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنا چاہیں، تو اس موضوع پر لکھی گئی مستند علمی  کتاب ”اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم“ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

لہٰذا مناسب اور شرعاً محتاط طرزِ عمل یہی ہے کہ اپنے گھر میں تفہیم القرآن کے درس کی اجازت نہ دیں، اور اگر قرآن فہمی کا شوق ہے تو اہلِ حق کے کسی مستند عالم یا عالمہ کے زیرِ نگرانی  مذکورہ معتبر اور معتمد  تفاسیر میں سے کسی تفسیر کا درس شروع کریں، تاکہ قرآن کے ساتھ تعلق بھی قائم رہے اور فکری و اعتقادی سلامتی بھی برقرار رہے۔

جیسا کہ الاتقان فی علوم القرآن میں ہے:

"ومنهم من قال: يجوز تفسيره لمن كان جامعا للعلوم التي يحتاج المفسر إليها وهي خمسة عشر علما:أحدها: اللغة،الثاني: النحو،الثالث: التصريف،الرابع: الاشتقاق ،الخامس والسادس والسابع: المعاني والبيان والبديع، الثامن: علم القراءات، التاسع: أصول الدين، العاشر: أصول الفقه، الحادي عشر: أسباب النزول والقصص، الثاني عشر: الناسخ والمنسوخ، الثالث عشر: الفقه، الرابع عشر: الأحاديث المبينة لتفسير المجمل والمبهم، الخامس عشر: علم الموهبة، قال ابن أبي الدنيا: وعلوم القرآن وما يستنبط منه بحر لا ساحل له قال: فهذه العلوم- التي هي كالآية للمفسر لا يكون مفسرا إلا بتحصيلها فمن فسر بدونها كان مفسرا بالرأي المنهي عنه وإذا فسر مع حصولها لم يكن مفسرا بالرأي المنهي عنه."

(النوع الثامن والسبعون: فی معرفة شروط المفسر، ج: 4، ص: 213،217، ط: الهیئة العلمية،مصر)

وفیه أیضا:

"قال في البرهان: اعلم أنه لا يحصل للناظر فهم معاني الوحي ولا يظهر له أسراره وفي قلبه بدعة أو كبر أو هوى أو حب الدنيا أو وهو مصر على ذنب أو غير متحقق بالإيمان أو ضعيف التحقيق أو يعتمد على قول مفسر ليس عنده علم أو راجع إلى معقوله وهذه كلها حجب وموانع بعضها آكد من بعضقلت: وفي هذا المعنى قوله تعالى: {سأصرف عن آياتي الذين يتكبرون في الأرض بغير الحق} قال سفيان بن عيينة: يقول أنزع عنهم فهم القرآن. أخرجه ابن أبي حاتم."

(النوع الثامن والسبعون: فی معرفة شروط المفسر، ج: 4، ص: 213،217، ط: الهیئة العلمية،مصر)

ترمذی شریف میں ہے:

"حدثنا محمود بن غيلان، قال: حدثنا بشر بن السري، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الأعلى، عن سعيد بن جبيرعن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال في القرآن بغير علم، فليتبوأ مقعده من النار".هذا حديث حسن."

(أبواب تفسیر القرآن، ج: 5، ص: 211، رقم الحدیث: 3181، ط: دارالرسالة العالمیة)

وفیه أیضا:

"حدثنا عبد بن حميد، قال: حدثني حبان بن هلال، قال: حدثنا سهيل أخو حزم القطعي، قال: حدثنا أبو عمران الجونيعن جندب بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال في القرآن برأيه فأصاب فقد أخطأ".هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض أهل الحديث في سهيل بن أبي حزم.وهكذا روي عن بعض أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم، أنهم شددوا في هذا في أن يفسر القرآن بغير علم."

(أبواب تفسیر القرآن، ج: 5، ص: 212، رقم الحدیث: 3183، ط: دارالرسالة العالمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100696

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں