
ہم دو بندوں نے آپس میں مل کر ایک بس خریدی ، جس میں کوئٹہ سے کراچی تک مسافر لے کر آتے تھے، ہماری آپس میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ بس میں جو بھی چیز لائیں گے اس کا نفع آدھا آدھا تقسیم کریں گے اور دونوں کوئی بھی چیز آپس کی رضامندی سے لائیں گے، البتہ بس میں منشیات اور اسلحہ لانے سے گریز کریں گے۔
ایک دفعہ میرے گھر میں کچھ کام تھا، جس کی وجہ سے میں بس کے ساتھ کراچی نہ آسکا اور میرا شریک، ڈرائیور اور کنڈیکٹر گاڑی کے ساتھ کراچی آگئے، بعد میں کراچی سے سواریاں لے کر کوئٹہ واپس آئے، میں نے اس وقت کنڈیکٹر کو فون کیا اور پوچھا کہ آپ کہاں ہوں؟ اس نے کہا کہ میں اپنی خالہ کے گھر پر ہوں، میں نے گاڑی کے متعلق پوچھا، اس نے کہا، کہ وہ میں نے اپنی جگہ کھڑی کرکے چوکیدار کے حوالے کی ہے، میں نے شریک سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں بھی گھر پہنچنے والاہوں۔
اگلے دن صبح میں نے کنڈیکٹر کو فون کیا تو اس نے کہا کہ میں بس کے پاس پہنچ گیا ہوں اور جب شریک سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں ابھی جاگا ہوں اور اب نکلوں گا، بہر حال وہ مجھ سے پہلے گاڑی کے پاس پہنچا، اس کے بعد میں آیا اور ہم کوئٹہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے، راستے میں ایک جگہ کسٹم والوں نے گاڑی روکی اور اس میں غیر قانونی چھالیہ، موبائل وغیرہ نکل آئے، جس کی وجہ سے کنڈیکٹر اور شریک کو گرفتار کرلیا، بعد میں پولیس دوبارہ آگئی اور سیٹ اٹھاکر اس کے نیچے سے چرس بر آمد کی جو محفوظ طریقے سے وہاں پر رکھی گئی تھی۔
اس چرس کے متعلق مجھے کوئی بھی علم نہیں تھااور اس معاملے میں اب کنڈیکٹر اور شریک گرفتار ہیں، اب ڈرائیور بھی کہتا ہے کہ مجھے کوئی علم نہیں، لیکن اب وہ کنڈیکٹر کہتا ہے کہ جس وقت میں نے گاڑی کوئٹہ میں روکی تھی تو آپ نے مجھے کہا تھا کہ تم گھر چلےجاؤاور پھر اگلے دن آپ نے بولا تھا کہ میں نے اس میں کوئی چیز رکھی ہے۔حالانکہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرےشریک کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ گواہوں کے بغیر محض کنڈیکٹر کے کہنے کی وجہ سے میرے اوپر اس کام کا دعویٰ کررہا ہے؟اور اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں اور مجھ پر قسم آئے تو قسم کا وبال کس پر ہوگا؟ کنڈیکٹر پر یا شریک پر؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا شریک اس بات کا دعوی کررہاہے کہ سائل نے گاڑی میں چھالیہ ، موبائل اور چرس وغیرہ رکھی تھی اور سائل اس سامان کے رکھنے سے منکر ہے تو شریک پر لازم ہے کہ اپنے دعوی پر شرعی گواہ ( دومرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ) پیش کرے، شرعی گواہ پیش کرنے کی صورت میں مدعی کا دعویٰ معتبر ہوگا، اور اگر مدعی یعنی شریک اپنے دعوی پر گواہ پیش نہ کرسکے تو پھر سائل پر قسم آئے گی، سائل اگر جھوٹی قسم کھاکر اپنی جان خلاصی کرتا ہے تو جھوٹی قسم کا وبال سائل پر ہی ہوگا، اور اگر سائل اپنی بات میں -کہ یہ ممنوعہ سامان سائل نے نہیں رکھا-سچا ہے اور شریک کا دعوی جھوٹا ہے، اس بنیاد پر قسم کھالیتا ہے تو اس صورت میں شرعاً سائل پر کوئی گناہ یا وبال نہیں ہوگا۔
قرآن پاک میں ہے:
{وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ} (البقرۃ:282)
ترجمہ:”اوردوشخصوں کواپنےمردوں میں سےگواہ(بھی)کرلیاکروپھراگروہ دوگواہ مرد(میسر)نہ ہوتوایک مرداوردوعورتیں(گواہ بنالی جاویں)۔“(بیان القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه .رواه الترمذي."
(كتاب الإمارة والقضاء، الفصل الثاني، 1112/2، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع كذا في محيط السرخسي."
(كتاب الدعوى، الباب الأول في تفسير الدعوى وركنها وشروط جوازها وحكمها وأنواعها، ج:4، ص:3، ط:دار الفکر)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
"البينة لإثبات خلاف الظاهر واليمين لبقاء الأصل."
(المادة: ۷۷)، ص:25، ط:نور محمد)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " وإياكم وكثرة الحلف في البيع ") أي: اتقوا كثرتها ولو كنتم صادقين، لأنه ربما يقع كذبا...وفيه أن جواز قلتها مع صدقها مجمع عليها."
(كتاب البيوع، باب المساهلة في المعاملات، الفصل الأول، 1908/5، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100248
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن