بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل اسکرین پر والدہ کی تصویر لگانا


سوال

 کیا موبائل فون کے وال پیپر پر مرحومہ والدہ کی تصویر لگائی جا سکتی ہے؟

کسی صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ وال پیپر پر تصویر لگانے سے نا محرم  افراد  کی بھی اُس پر نظر پڑتی ہے جو کہ گناہ کا سبب بنتا ہے۔

جواب

زندہ یا مردہ انسان کی تصویر موبائل کی اسکرین پر لگانا جائز نہیں، اسی طرح سے کسی نامحرم کی تصویر دیکھنا بھی جائز نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں موبائل اسکرین پر مرحومہ والدہ کی تصویر ہر گز  نہ لگائی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها."

(کتاب الصلوۃ ، باب مایفسد الصلوۃ و مایکرہ فیها: 1/ 647، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144209200997

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں