
کیا موبائل فون کے وال پیپر پر مرحومہ والدہ کی تصویر لگائی جا سکتی ہے؟
کسی صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ وال پیپر پر تصویر لگانے سے نا محرم افراد کی بھی اُس پر نظر پڑتی ہے جو کہ گناہ کا سبب بنتا ہے۔
زندہ یا مردہ انسان کی تصویر موبائل کی اسکرین پر لگانا جائز نہیں، اسی طرح سے کسی نامحرم کی تصویر دیکھنا بھی جائز نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں موبائل اسکرین پر مرحومہ والدہ کی تصویر ہر گز نہ لگائی جائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها."
(کتاب الصلوۃ ، باب مایفسد الصلوۃ و مایکرہ فیها: 1/ 647، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144209200997
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن