بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل سامنے رکھ کر نماز پڑھنا


سوال

باجماعت نماز میں،نماز سے قبل بعض لوگ موبائل فون جیب سے نکال کر اپنے سامنے اس طرح رکھ دیتے ہیں کہ اس کا کیمرہ نظر آ رہا ہوتا ہے، اس پر ایک مولوی صاحب نکیر کرتے ہیں۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ نمازیوں کا اس طرح موبائل سامنے رکھنا کیسا ہے؟ اور کیا مولوی صاحب کا اس پر نکیر کرنا مناسب ہے یا نہیں؟

جواب

نماز میں خشوع و خضوع،اور دل کا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، سجدہ کی جگہ یا قبلہ کی سمت ایسی چیزیں رکھنا جو خود نمازی یا دیگر نمازیوں کی توجہ بٹانے کا باعث بنیں، مکروہ ہے۔

اور اگر سامنے کوئی ایسی چیز ہو جس سے نہ نمازی کی توجہ بٹے اور نہ ہی وہ  چیز دیگر نمازیوں کی نماز میں خلل یا تشویش کا سبب بنے، تو اصلًا اس میں کوئی حرج نہیں،اور نہ ہی ایسی چیز کا سامنے رکھنا بذاتِ خود مکروہ ہے۔

لہٰذا اگر موبائل فون سامنے رکھنے سے کسی شخص کی نماز کے خشوع و خضوع میں یقینی طور پر فرق نہ آتا ہو، تو اسے سامنے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر اس سے خشوع میں فرق آتا ہو، نمازی کی توجہ ہٹتی ہو تو موبائل سامنے نہ رکھا جائے۔ جبکہ سامنے کوئی غیر معمولی چیز ہو تو کچھ نہ کچھ دھیان اس چیز کی  طرف جانے کا کافی امکان رہتا ہے، اس اعتبار سے موبائل کو سامنے رکھنے کے بجائے اپنی جیب میں رکھنا ہی زیادہ مناسب ہے۔

ملاحظہ: سوال میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ نکیر کرنے والے حضرات کس وجہ سے نکیر کرتے ہیں اور کس چیز پر نکیر کرتے ہیں؛ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ نکیر کرنے والے حضرات سے دریافت کر کے باہمی مشاورت سےواضح طور پر تحریر کیا جائے کہ نکیر کیوں اور کس امر پر کی جا رہی ہے، پھر اس وضاحت کے ساتھ دارالافتاء سے رجوع کیا جائے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فالأصل فيه أنه ينبغي للمصلي أن يخشع في صلاته؛ لأن الله تعالى مدح الخاشعين في الصلاة، ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده؛ لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان يصلي خاشعا شاخصا بصره إلى السماء فلما نزل قوله تعالى {قد أفلح المؤمنون} [المؤمنون: 1] {الذين هم في صلاتهم خاشعون} [المؤمنون: 2] رمى ببصره نحو مسجده» أي موضع سجوده؛ ولأن هذا أقرب إلى التعظيم."

(كتاب الصلاة، فصل بيان ما يستحب في الصلاة وما يكره، ج: 1، ص: 215، ط: دار الكتب العلمية)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"ويكره - أيضا - النظر إلى ما يلهي عن الصلاة، لحديث عائشة - رضي الله تعالى عنها - أن النبي صلى الله عليه وسلم: صلى في خميصة لها أعلام، فنظر إلى أعلامها نظرة، فلما انصرف قال: اذهبوا بخميصتي هذه إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانية أبي جهم؛ فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي ؛ ولأنه يشغله عن إكمال الصلاة."

(حرف الصاد، ‌‌تقسيم أقوال وأفعال الصلاة، أنواع السنن في الصلاة، ‌‌مكروهات الصلاة، ج: 27، ص: 102، ط: دار الصفوة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں