
1۔کوئی شخص موبائل فون پر ایجاب کرتا ہے، البتہ جس لڑکی سےاس شخص نے نکاح کرنا ہے اس کے علاوہ کوئی اور لڑکی قبول کرتی ہے، اورجس لڑکی سے اس نےنکاح کرنا ہے اُس لڑکی کواس نکاح کا علم ہی نہیں ہے، تو ایسی صورت میں متعینہ لڑکی کے علاوہ کسی اور لڑکی کےقبول کرنے سے نکاح ہوجائے گا یا نہیں ؟
2۔نیز کوئی عاقل و بالغ لڑکی کسی مرد کے رابطے میں ہو، اور کسی وقت مرد نکاح کی اجازت کے لئے کال کرے ،اور لڑکی سے کہے کہ آپ سے کوئی ضروری کام ہے، تو لڑکی کہے کہ میں بھی ضروری کام میں مصروف ہوں، آپ کو جو کرنا ہو کرلو، اور لڑکی کے علم میں یہ نہیں ہے کہ وہ نکاح کی اجازت لینا چاہ رہا تھا، پھر مرد لڑکی کی طرف سے کسی کو وکیل بناکر نکاح کردے ،اور کہے کہ نکا ح ہو چکا ہے، پھر کچھ بحث کرنے کے بعد لڑکی نکاح کو تسلیم بھی کرلے، تو اس نکاح کا کیا حکم ہے؟ منعقد ہوجائے گا یا نہیں ؟
1۔واضح رہے کہ نکاح میں جانبین کی طرف سے ایجاب و قبول کے لیے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے،اور اگر مجلس مختلف ہو، یا جانبین میں سے کوئی ایک غائب ہو تو نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا، لہذا مذکورہ صورت میں موبائل فون پر ایجاب قبول کرنے سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ہے، چاہے جس لڑکی سے نکاح کیا جارہا ہو اُس نے قبول کیا ہوا، یا کسی اور نےقبول کیا ہو، لہذا مذکورہ شخص جس لڑکی سے نکاح کرنا چاہ رہا ہے پہلے نکاح کے حوالے سے اُسے باخبر کرے، پھر اگر وہ راضی ہو تو لڑکی یا اس کا کوئی وکیل مجلس ِ نکاح میں حاضر ہوکر قبول کرلے تو نکاح منعقد ہوگا۔
2۔ صورت مسئولہ میں مذکورہ لڑکی کو جب نکاح کا معلوم ہوا ، اور انہوں نے اس پر رضامندی کا بھی اظہار کرلیا ، تو ایسی صورت میں شوہر کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کا لڑکی کی جانب سے قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد ہوجائے گا، مذکورہ خاتون شوہر کی منکوحہ کہلائے گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد."
(کتاب النکاح، الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته....، ج:1، ص:269، ط:رشیدیه)
وفیہ ایضا :
"كذا في الخلاصة قال لغيره: وكلتك في جميع أموري وأقمتك مقام نفسي لا تكون الوكالة عامة، ولو قال: وكلتك في جميع أموري التي يجوز بها التوكيل كانت الوكالة عامة تتناول البياعات والأنكحة، وفي الأول إذا لم تكن عامة ينظر إن كان أمر الرجل مختلفا ليست له صناعة معروفة فالوكالة باطلة، وإن كان الرجل تاجرا بتجارة معروفة تنصرف الوكالة إليها."
(كتاب الوكالة، الباب الأول في معنى الوكالة وركنها، ج:3، ص:565، ط:رشیدیه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101900
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن