
موبائل کی اسکرین پر جب قرآن کریم کھلا ہوا تو اس وقت پوری سکرین کو چھونا جائز نہیں یا حروف کو چھونا جائز نہیں باقی سکرین کے بیاض کو چھونا جائز ہے اس بارے میں آپ حضرات کی کیا رائے ہے ؟ بالفاظِ دیگر سکرین پر نظر آنے والا قرآن مصحف کے حکم میں ہے یا مفرد ورق پر لکھے ہوئے قرآن کی طرح ہے ؟
ایک ایسا کاغذ جس پر قرآن کی آیت لکھی ہوئی ہو، اس میں اور قرآن کریم میں فرق ہے، وہ کاغذ جس پر قرآن کریم کی کوئی آیت لکھی ہوئی ہو، اس کاغذ پر بغیر وضو کے ہاتھ لگانا جائز ہے، لیکن اس پر جو قرآن کریم لکھا ہوا ہے، اس پر ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے، لیکن مصحف قرآنی کی جلد پر یا سفید کاغذ پر بھی بغیر وضو کے ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔
اور موبائل پر جب قرآن کریم کھلا ہوا ہو، تو اس کی اسکرین قرآن کریم کے حکم میں ہے، تو جس طرح قرآن کریم کے کاغذ کے سفید حصے کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں ہے، تو موبائل کی اسکرین کے سفید حصہ کو بھی بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں ہے جب کہ اس پر قرآن کریم کھلا ہوا ہو۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها) حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح. هكذا في الهداية وعليه الفتوى. كذا في الجوهرة النيرة. والصحيح منع مس حواشي المصحف والبياض الذي لا كتابة عليه. هكذا في التبيين."
(كتاب الطهارة، ج:1، ص:38، ط:دار الفكر)
رد المحتار میں ہے:
"(قوله ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف فلا يجوز مس الجلد وموضع البياض منه. وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم كما في البحر: أي والصحيح المنع كما نذكره ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره وفي التفسير والكتب الشرعية خلاف مر."
(كتاب الطهارة، ج:1، ص:293، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101469
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن