بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل لاکر سے چوری ہوجانے کی صورت میں ضمان کا حکم


سوال

ایک دینی ادارہ ہے جن کا اصول یہ ہے کہ تمام اساتذہ سے موبائل جمع کرلیتے ہیں، اور پھر عصر کے وقت پڑھائی کے اختتام پر دوبارہ واپس کردیتے ہیں، اساتذہ کرام جمع کراتے ہیں لیکن دلی رضامندی نہیں ہوتی۔ 

اب حادثہ یہ ہوا کہ جن حضرات نے موبائل جمع کیے ، انہوں نے لاكر  کی چابیاں اسی میں چھوڑدیں، اور لاکر کھلا چھوڑ دیا، اور ہال کے دروازے بھی کھلے چھوڑ دیے، اور ساتھی عصر کی نماز پڑھنے کے لیے چلے گئے، واپس آئے تو موبائل غائب تھے، پھر ہم نے ادارے سے اپنے موبائل کے تاوان دینے کا مطالبہ کیا، انہوں نے ہمیں آدھی رقم قرض کے طور پر دی، اس طور پر کہ ہر ماہ تنخواہ سے 2000 روپے اس دیے ہوئے  قرض کے زمرے میں کاٹتے رہیں گے، ہم نے بامر مجبوری مان لیا، دو تین مہینہ کے بعد ہم نے ادارہ چھوڑ دیا، اب ادارے والے ہم سے اس بقیہ رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا ادارے کا یہ اصول کہ "موبائل پڑھائی کے اوقات میں ادارے کو جمع کرانا ہے" عقد امانت ہے؟ جب کہ ہم اسے دلی رضامندی کے بغیر مان لیتے۔

ان موبائلوں کا چوری ہوجانا جو انہیں کی ہی غفلت سے ہوایہ امانت میں تعدی شمار ہوگی یا نہیں؟ اور اس کا تاوان ادارے پر لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟  

ادارے نے جو ہمیں آدھی رقم تاوان کی بطور قرض دی ہےکیا وہ رقم ادارے کو واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ ادارہ کا اپنے اساتذہ سے پڑھائی کے اوقات میں موبائل جمع کرکے لاکر میں رکھنا عقد امانت ہے، اور جب لاکر کی نگرانی کرنے والے افراد  نے لاکر کی چابیاں لاکر میں ہی چھوڑدیں، اور وہاں کے دروازے بھی کھلے چھوڑدیے، تو یہ ان افراد  کی طرف سے امانت میں تعدی شمار ہوگی، اور ایسی صورت میں موبائلوں کی کل رقم اساتذہ کو ادا کرنا ان افراد کے ذمہ لازم ہے، اور ادارہ کے ذمہ کسی قسم کا تاوان ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔ 

نیز  ادارہ نے جو آدھی رقم اساتذہ کو بطور قرض دی ہے، اساتذہ کے ذمہ ادارہ کو  اس رقم کی واپسی شرعاً ضروری ہے۔  

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني."

(کتاب الودیعة، الباب الأول فی تفسیر الودیعة، ج: 4، ص: 372، ط: دارالکتب العلمیة)

وفیہ أیضاً: 

"أتلف وديعة إنسان للمودع أن يخاصم ويغرمه القيمة، كذا في الوجيز للكردري."

(کتاب الودیعة، الباب العاشر فی المتفرقات، ج: 4، ص: 398، ط: دارالکتب العلمیة)

دررالحکام میں ہے: 

"القاعدة الثانية: إذا هلكت الأمانة بسبب صنع الأمين وفعله أو تقصيره في أمر المحافظة أو من جهة مخالفة صاحب المال المعتبر شرعا وغير الجائز مخالفته يكون الأمين ضامنا."

(الکتاب السادس الأمانات، الباب الأول، ج: 2، ص: 236، ط: دار عالم الکتب)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100478

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں