بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

موبائل لون کا حکم


سوال

موبائل میں لون منگوانا کیسا ہے؟ اگر کسی نے موبائل میں لون منگوایا تو جب بیلنس ڈلوا تا ہے تو جتنے کا لون لیا تھا،  اس سے دس روپے اوپر پیسے کاٹتے ہیں، کیا یہ سود ہے؟

جواب

بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو میسج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی جو ایڈوانس کی سہولت دیتی ہے اور اس پر تھوڑی بہت رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے، یعنی ایڈوانس کی سہولت فراہم کرنے کا عوض ہے جو کہ جائز ہے، اس لیے ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس کی سہولت حاصل کرنا اور اس کے عوض کمپنی کا سروس چارجز  (زائد) وصول کرنا جائزہے، تاہم زیادہ بہتر اوراحتیاط اسی میں ہے کہ حتی الامکان ایڈوانس کی سہولت حاصل نہ  کی جائے۔

اور اگر موبائل کمپنی سروس چارجز  کی مد میں کٹوتی نہیں کرتی، بلکہ قرض کے عوض اضافی وصول کرتی ہے تو لون لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

''فتاوی شامی'' میں ہے:

" وشرعاً (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض)"

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)-[كتاب الإجارة]-(6/ 4)، ط: سعید)

الہدایۃ شرح البدایۃ میں ہے:

"الإجارة عقد على المنافع بعوض لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع."

(كتاب الإجارة، ج:3، ص:231، ط:المكتبة الإسلامية)

فتاوی شامی میں ہے:

"كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

(مطلب كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، ج:5، ص:166،ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200504

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں