
1- L.E.D اور بوفر ساؤنڈ موبائل فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2- میں قسطوں پر سامان فروخت کرتا ہوں، مثلا ایک چیز دس ہزار کی مجھے پڑتی ہے تو میں پچیس ہزار کی فروخت کرتا ہوں، جس میں مجھے تین ہزار نقد مل جاتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟
3- میری دکان میں بہت سی چیزیں موجود نہیں ہوتی اور کسٹمر سامان مانگتا ہے، اور میرے پاس موجود نہیں ہوتاتو میں پہلے اس سے ایڈوانس رقم لے لیتا ہوں اور پھر اگلے دن سامان خرید کر دے دیتا ہوں، تو کیا پہلے سے ایڈوانس لے کر اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے؟
4- قسطوں پر سامان کتنا نفع رکھ کر فروخت کیا جاسکتا ہے؟
1- واضح رہے کہ جس چیز کا جائز اور ناجائز دونوں طرح استعمال ہوسکتا ہو اس کی خرید وفروخت جائز ہے، اگر کوئی شخص اس کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا،لہذا L.E.D اور بوفر ساؤنڈ موبائل فروخت کرنا جائز ہے۔
2- قیمت میں کمی زیادتی کے ساتھ نقد اور ادھار دنوں طرح فروخت کرناجائز ہے،اسی طرح کچھ رقم نقد اور کچھ رقم ادھار کے ساتھ فروخت کرنا بھی شرعًا جائز ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے تین ہزار نقد لے کر باقی رقم ادھار کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے۔البتہ فروخت کرتے وقت ہی ایک قیمت متعین کرلی جائے اور قسطیں بھی متعین کرلی جائیں ، اور قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ وصول نہ کیا جائے۔
3- کسی بھی چیز کی فروختگی کے لیے شرعًا ضروری ہے کہ فروخت کردہ چیز فروخت کنندہ کی ملکیت وقبضہ میں ہو، اور اگر کوئی چیز ملکیت میں نہ ہو تو اس کو فروخت کرنا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل مذکورہ چیز جو دکان میں موجود نہیں ، اس کی حتمی بیع کرکے سائل سے ایڈوانس رقم لیتا ہے تو یہ طریقہ جائز نہیں ۔ البتہ اگر سائل مکمل طور پر بیع(فروخت) کا معاملہ نہیں کرتا، بلکہ صرف وعدہ کرتا ہےاور ملکیت میں آنے کے بعد باقاعدہ بیع کرتا ہے تو اس صورت میں ایڈوانس رقم لی جاسکتی،اگر وعدہ کے مطابق بیع ہوگئی تو ایڈوانس رقم قیمت کا حصہ بن جائے گی، اور اگر کسی وجہ سے خرید و فروخت کا معاملہ نہ ہوسکا تو ایڈوانس واپس کرنا لازم ہوگا۔
4-شریعت نے نفع کی کوئی خاص حد متعین نہیں کی ہے، لہذا خرید و فروخت کی صورت میں باہمی رضامندی سے جتنا نفع طے کرلیا جائے وہ لینا جائز ہوگا، البتہ بازار کے متعارف منافع سے زائد منافع رکھنا مناسب نہیں، اسی طرح کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑھا چڑھاکرنفع رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وكذا لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكراً، وإنما المنكر في استعمالها المحظور اهـ قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلاً والغناء عارض فلم تكن عين المنكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكراً إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكر بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه."
(كتاب الجهاد، باب البغاة،ج:4، ص:268، ط:سعيد)
شرح المجلہ لسلیم رستم باز اللبنانی میں ہے:
"البیع مع تأجیل الثمن و تقسیطه صحیح، یلزم أن یکون المدة معلومةً في البیع بالتأجیل و التقسیط."
(الكتاب الأول في البيوع، الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالثمن، رقم المادة:245، ج:1، ص:100، ط:رشيدية)
مرقاة المفاتیح میں ہے :
"الثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد."
(باب المنهي عنها من البیوع، ج:5، ص:1937، ط:دارالفکر)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"إن دفع المشتري إلى البائع درهما، وقال: لا تبع هذه السلعة لغيري، وإن لم أشترها منك فهذا الدرهم لك: أفإن اشتراها بعد ذلك بعقد مبتدأ، واحتسب الدرهم من الثمن صح؛ لأن البيع خلا عن الشرط المفسد....وإن لم يشتر السلعة، لم يستحق البائع الدرهم، لأنه يأخذه بغير عوض، ولصاحبه الرجوع فيه."
(البيع، بيع العربون، ج:9، ص:95، ط:دار السلاسل)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ومن اشتری شیئًا و أغلی في ثمنه فباعه مرابحةً علی ذلك جاز، وقال أبویوسف: إذا زاد زیادةً لایتغابن الناس فیها فإني لا أحب أن یبیعه مرابحةً حتی یبیّن، و الأصل أنّ عرف التجار معتبر في بیع المرابحة."
(كتاب البيوع، ج:3، ص:161، ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"قوله: بیع المضطر هو أن یضطر الرجل إلی طعام أو شراب أو لباس أو غیرها ولایبیعها البائع إلا بأکثر من ثمنها بکثیر، وکذلك في الشراء منه."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد،ج:5، ص:59، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100100
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن