بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل فون میں دیکھ کر خطبہ دینے کا شرعی حکم


سوال

کیا موبائل فون میں دیکھ کر خطبہ دیا جا سکتا ہے؟

 

جواب

خطبہ کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام، حاضرین کو وعظ و نصیحت، نیکی کی ترغیب اور برائی سے ڈرانا ہے۔ اس لیے بہتر اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ خطیب خطبہ اچھی طرح یاد کرکے بغیر کسی تحریر یا کسی آلے کی مدد کے زبانی بیان کرے، کیونکہ یہی طریقہ زیادہ مؤثر، باوقار اور متعارف ہے۔

اگر کسی شخص کو اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ ہو کہ وہ زبانی خطبہ دے سکے، یا خطبہ اسے یاد نہ ہو، تو ایسی صورت میں مناسب یہ ہے کہ وہ خطبے کی کتاب سے دیکھ کر خطبہ دے،  ۔

اگرچہ شرعاً ضرورت کے وقت موبائل فون سے دیکھ کر خطبہ دینے کی گنجائش ہے، لیکن منبر پر موبائل ہاتھ میں لے کر خطبہ دینا عوام کی نظر میں آج بھی معیوب اور خلافِ وقار سمجھا جاتا ہے، جس سے خطبے کی ہیبت اور اثر میں کمی آسکتی ہے۔ لہٰذا جہاں تک ممکن ہو موبائل سے اجتناب کیا جائے، اور اگر زبانی خطبہ دینا ممکن نہ ہو تو خطبے کی کتاب سے دیکھ کر خطبہ دینا زیادہ مناسب اور بہتر ہے۔

دستور العلماء او جامع العلوم فی اصطلاحات الفنون  میں ہے:

"الخطبة : بالضم كلام منثور مؤلف من المقدمات اليقينية والمقبولة والمظنونة أو إحداها ترغيبًا أو ترهيبًا أو كلاهما مصدرًا بالحمد والصلاة مع كون مخاطبه غير معين يقال: سمعنا خطبة الجمعة والعيدين. وتطلق على خطاب الوعظ أيضًا.

واعلم أن خطبة الجمعة تشتمل على فرض وسنة فالفرض شيئان: الأول: الوقت وهو بعد الزوال وقبل الصلاة حتى لو خطب في الجمعة قبل الزوال أو بعد الصلاة لايجوز. والثاني: ذكر الله تعالى وكفت تحميدة أو تهليلة أو تسبيحة. هذا إذا كان على قصد الخطبة أما إذا عطس فحمد الله تعالى أو سبح أو هلل متعجبًا من شيء لاينوب عن الخطبة إجماعًا. وأما سنتها فخمسة عشر. أحدها: الطهارة حتى كرهت للمحدث والجنب. ثانيها: القيام. وثالثها: استقبال القوم بوجهه. ورابعها: التعوذ في نفسه قبل الخطبة. وخامسها: أن يسمع القوم الخطبة وإن لم يسمع أجزاه. وسادسها: البداية بحمد الله تعالى. وسابعها: الثناء عليه بما هو أهله. وثامنها: الشهادتان. وتاسعها: الصلاة على النبي عليه الصلاة والسلام. والعاشر: العظة والتذكير. والحادي عشر: قراءة القرآن وتاركها مسيء، كذا في البحر الرائق. ومقدار ما يقرأ فيها من القرآن ثلاث آيات قصار أو آية طويلة. والثاني عشر: إعادة التحميد والثناء على الله تعالى والصلاة على النبي  ﷺ  في الخطبة الثانية. والثالث عشر: زيادة الدعاء للمسلمين والمسلمات. والرابع عشر: تخفيف الخطبتين بقدر سورة من طوال المفصل ويكره التطويل. والخامس عشر: الجلوس بين الخطبتين، كذا في البحر الرائق ".

‌‌(باب الخاء مع الطاء المهملة، في الخطبة الثانية، ج:2، ص:60، ط:دار الكتب العلمية)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

"خطبہ جمعہ زبانی پڑھنا مشکل ہو تو دیکھ کر پڑھے"۔

"خطبہ اچھی طرح یاد کیا جائے، یا دیکھ کر پڑھا جائے"۔

(جمعہ کی نماز، ج:4، ص:135، ط:لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102196

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں