بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

موبائل کی اسیسریز کی خرید وفروخت کا حکم


سوال

موبائل کی اسیسریز مثلاً ہیڈ فون،ٹرائے پوڈ (جس کے ذریعے  تصویر لیتے ہیں)اور موبائل کے بارے میں اگر معلوم ہو کہ یہ شخص اس سے گناہ کےکام کرے گا تو اس کو  بیچنا کیا جائز ہے؟ دوسرے مسلمان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیز کا جائز اور ناجائز دونوں طرح استعمال کیا جاسکتا ہو اس کی خرید وفروخت جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں ہے، اگر کوئی اس کا غلط استعمال کرتا ہے  تو اس کا وبال اس پر ہے، لہذا موبائل کی اسیسیریز وغیرہ کی خریدوفروخت جائز ہے ، اگر   کوئی  شخص انہیں خرید کر  ناجائز امور میں استعمال کرے گا تو   اس کا گناہ اسے ہی ملے گا۔

البحرالرائق میں ہے :

"وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه، وما لا فلا، ولذا قال الشارح: إنه لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة".(5/155).

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكراً، وإنما المنكر في استعمالها المحظور اهـ  قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلاً والغناء عارض فلم تكن عين المنكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكراً إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكر بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه". (4/268) فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144111200129

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں