
کیا موبائل میں تصویر لینا جائز ہے؟
کسی بھی جان دار کی تصویر کھینچنا، بنانایا بنوانا ناجائز اور حرام ہے، خواہ اس تصویر کشی کے لیے موبائل یااس کے علاوہ کوئی بھی آلہ استعمال کیا جائے،لہذا موبائل فون سے لی گئیجان دار کی تصویر بھی تصویر محرم میں داخل ہے ،اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
"لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير"
(کتاب اللباس، باب التصاویر، ج:2، ص: 404، ط: رحمانیہ)
وفیہ ایضاً:
"إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون"
(کتاب اللباس، باب التصاویر، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، ج:2، ص: 405، ط: رحمانیہ)
امداد الاحکام میں ہے:
تصویر کی حرمت احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور امت کا ا س پر اجماع ہے ...حرام چیز کانام بدل دینے سے وہ حلال نہیں ہوجاتی ،حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے لوگ شرا ب کا نام بدل کر اس کو پئیں گے اور برسر ے مجلس راگ باجے اور گانے بجانے کامشغلہ کریں گے ،اللہ تعالی ان کو زمین میں دھنسا دیں گے اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنادیں گے پس جس طرح سود کانام منافع اور رشوت کانام حق الخدمت اور شراب کانام برانڈ ی یا اسپرٹ اور قمار کانام بیمہ ،لاٹری اور گانے کانام گراموفون رکھ دینے سے وہ حلال نہیں ہوجاتے اسی طرح تصویر کشی کانام فوٹوگرافی یاعکاسی کہہ دینے سے وہ حلال نہ ہوجائے گی۔
(باب اللعب والغناءوالتصاویر، ج:4، ص:382، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102158
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن