
اگر کوئی شخص کسی کو اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے وکیل مقرر کرے اور وکیل موکل کی زندگی میں ہی وہ جائیداد فروخت کر دے، لیکن اس کی دستاویزات (انتقال) مکمل ہونے سے پہلے موکل کا انتقال ہو جائے، تو کیا اس صورت میں وکیل انتقال مکمل کر سکتا ہے یا نہیں؟
نیز موکل کی وفات کے بعد کیا وکالت باقی رہتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے؟
وضاحت:مذکورہ جائیداد مشتری کے قبضہ میں دے دی جا چکی تھی، اس سے اس کی قیمت بھی وصول کر لی گئی ہے، صرف کاغذی کاروائی سے پہلے مؤکل کا انتقال ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ مؤکل کے انتقال کے ساتھ وکالت تو باطل ہو جاتی ہے، لیکن اگر مؤکل کے انتقال سے پہلے وکیل بالبیع اس عقد کو تام کر دے تو عقد تام شمار ہو گا،نیز ایجاب و قبول اور مبیع و ثمن پر قبضہ کرنے کے ساتھ بھی بیع تام ہو جاتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مؤکل کے انتقال سے پہلے جب وکیل نے مؤکل کی جائیداد بیچ دی اور اس کا قبضہ مشتری کو دے دیا گیا، اور اس کی قیمت بھی وصول کر لی گئی تھی،تو یہ بیع تام سمجھی جائے گی، اس لیے وکیل اس بیع کا انتقال (کاغذی کاورائی)مکمل کر سکتا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"والوكالة تبطل بموت الموكل لبطلان أمره بموته وتبطل بموت الوكيل لتعذر تصرفه فتبطل الشركة فلا يجوز لأحدهما أن يقبض نصيب الآخر إذا لم يكن هو الذي تولى العقد، ويجوز قبضه في نصيب نفسه؛ لأنه موكل فيه، وقبض الوكيل جائز استحسانا."
(فصل في حكم الشركة،ج:6،ص:75، ط:دار الكتب العلمية )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101522
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن