بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

MMA کھیلنا جائز نہیں ہے


سوال

MMA ایک کھیل ہے، جس میں دو بندوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس میں کشتی اور منہ پر مکے مارے جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے، لیکن MMA میں بھی مارنا ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ ہم پورے جسم پر مار سکتے ہیں۔ اگر میں مخالف کو صرف تھکانے کی نیت سے چہرے پر ماروں تاکہ وہ تھک جائے، یعنی چار یا پانچ مکے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، تو کیا یہ میرے لیے حلال ہوگا؟

اس میں "ستر" ڈھانپنے کا اہتمام بھی کروں گا اور چہرے پر نہیں ماروں گا، لیکن اس کو حلال طریقے سے کیسے لڑا جائے؟ اور اگر یہ جائز نہیں تو کیا اس کی آمدنی جائز ہے؟ اگر یہ جائز نہیں تو کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟

کھیل کے اختتام پر چھوٹا سا لکھ دیں کہ حرام ہے یا حلال۔ اپنے مخالف کو چہرے پر مارنے کے بجائے تھکایا جائے اور کلیوں (گھٹنوں) آگے کشتی کر کے اس کو شکست دی جائے، اس صورت میں یہ جائز ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کافی مسلمان MMA fighters یہ کرتے ہیں اور وہ دیندار بھی ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی   کسی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1۔۔   وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز  بات نہ ہو۔

2۔۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت  ہو، مثلاً جسمانی  ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔۔ کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا  ہو۔

4۔۔کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے  کہ جس سے  فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

5۔ اس کھیل کی وجہ سے ستر کا کھلنا لازم نہ آئے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ  MMA فائیٹنگ میں مذکورہ بالا متعدد شرائط مفقود ہیں، نیز اس کھیل میں چہرے پر گھونسہ مارا جاتا ہے جو کہ اسلام میں سخت منع ہے،نیز اس کھیل  میں سترکا لحاظ  بھی عموماًنہیں رکھا جاتا،علاوہ ازیں مخالف کو  تھکانے کے لیے مارنا بھی جائز نہیں۔پس یہ کھیل کھیلنا اور اس کو آمدن کا ذریعہ بنانا   بھی جائز نہیں۔

تفسيرجلالين ميں ہے:

"{وَمِنْ النَّاس مَنْ يَشْتَرِي ‌لَهْو ‌الْحَدِيث} أَيْ مَا يُلْهِي مِنْهُ عَمَّا يَعْنِي."

(سورۂ لقمان، آیت نمبر:6،  ص:540 ، ط:دار الحديث - القاهرة)

مشكاۃ المصابيح میں ہے:

"عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا ضرب أحدكم فليتق الوجه. رواه أبو داود".

(2/ 1079،  کتاب الحدود، باب التعزیر، الفصل الثاني، ط: المکتب الإسلامي بیروت)

شرح النووی علی صحیح المسلم میں ہے:

"(إذا قاتل أحدكم أخاه فليجتنب) وفي رواية إذا ضرب أحدكم وفي رواية لا يلطمن الوجه وفي رواية إذا قاتل أحدكم أخاه فليجتنب الوجه فإن الله خلق آدم على صورته قال العلماء هذا تصريح بالنهي عن ضرب الوجه لأنه لطيف يجمع المحاسن وأعضاؤه نفيسة لطيفة وأكثر الإدراك بها فقد يبطلها ضرب الوجه وقد ينقصها وقد يشوه الوجه والشين فيه فاحش لانه بارز ظاهر لا يمكن ستره ومتى ضربه لا يسلم من شين غالبا ويدخل في النهي إذا ضرب زوجته أو ولده أو عبده ضرب تأديب فليجتنب الوجه."

(كتاب البر والصلة والآداب،باب النهي عن ضرب الوجه، ص:١٦٥،ج:١٦، ط:دار إحياء التراث العربي)

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، ... وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية فإن ورد النهي  عنه من الكتاب  أو السنة ... كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل  به ألهاه عن ذكر الله  وحده  وعن الصلاة والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً. والثاني: ماليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التهلي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه."

(تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، 4 /435 ط:  دار العلوم کراچی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام : كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه

(قوله وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام وإن سمع بغتة يكون معذورا ويجب أن يجتهد أن لا يسمع قهستاني"

(کتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6 ص:395، ط:سعید)

الموسوعۃالفقہیّہ میں ہے:

"الأصل في هذه المسألة هو قول النبي صلى الله عليه وسلم: كل شيء يلهو به ابن آدم فهو باطل إلا ثلاثا: رميه عن قوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، وذلك لأنه أفاد أن كل ما تلهى به الإنسان مما لا يفيد في العاجل والآجل فائدة دينية فهو باطل والاعتراض فيه متعين."

(‌‌الأحكام المتعلقة باللهو، ج:25، ص:337، ط:مطابع دار الصفوة) 

کفایت المفتی میں ہے:

" جسمانی ورزش جس میں کوئی بات خلافِ شریعت نہ ہو جائز ہے ورزش کے بہت سے طریقے ہیں جن میں سے بعض طریقے ایسے ہیں کہ وہ کسی خاص قوم کفار کے ساتھ مخصوص ہیں مثلاً: کرکٹ، فٹ بال ہاکی وغیرہ کہ ان میں یورپی کفار کی مشابہت کی وجہ سے کراہت ہے تاہم اگر ان چیزوں میں مشغولی کی وجہ سے نماز یا اور کسی امرِ شرعی میں نقصان نہ آئے تو صرف تشبہ کی وجہ سے کراہت ہوگی حرمت کا حکم لگانا صحیح نہیں ہے اور یہ بات کہ ان چیزوں کو ہاتھ لگانا مثل خنزیر کے گوشت کے ہاتھ لگانے کے ہے افراط و اعتداء فی الحکم ہے جس سے احتراز واجب ہے۔"

( باب الحظر والاباحۃ، ج:9، ص:269، ط دارالشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:کیا گیند کھیلنا، فٹ بال کھیلنا، کبڈی کھیلنا یا لکڑی سے کھیلنا جائز ہے، ۔کشتی لڑنا جائز ہے یا نا جائز؟  کشتی لڑنا دنگل  کے اندر جائز ہے یا نہیں؟

جواب:اگر ورزش اور مشقِ جہاد اور تندرستی باقی رکھنے کیلئے کھیلے تو درست ہے ، مگر ستر پوشی اور دیگر حدودِ شریعت کی رعایت لازم ہے ، انہماک کی وجہ سے احکامِ شرعیہ: نماز و جماعت وغیرہ میں خلل نہ آئے۔"

(باب الألعاب،ج:19، ص:533، ط:ادارہ لافاروق کراچی)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں