
ہمارے گاؤں میں ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کمیٹی ممبر کے گھر فوتگی ہو تو دُور دراز سے آنے والے مہمانوں اور قریبی پڑوسیوں کو جو کھانا کھلایا جاتا ہے، اس کی قیمت کمیٹی کے تمام افراد پر تقسیم کر دی جاتی ہے۔ بعض اوقات اس میں فوتگی والے گھر کا حصہ معاف ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ بھی اپنے حصے کی رقم ادا کرتا ہے، دریافت طلب یہ ہے کہ:
1۔اس کمیٹی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اس کھانے میں شریک ہونا کن افراد کے لیے درست ہے اور کن کے لیے درست نہیں؟
2۔کمیٹی ( یعنی بی سی) ڈالنے کا کیا حکم ہے؟
وضاحت:کمیٹی میں شامل ہونے کیلئے اور اس کی سہولیات حاصل کر نے کیلئے متعین رقم جمع کرنالازمی ہے ورنہ کمیٹی میں شامل نہیں ہو سکتا۔
1۔صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمیٹی میں شامل ہونے اور اس سے ملنے والی سہولیات حاصل کرنے کے لیے ہر شخص پر ایک مخصوص رقم جمع کرنا لازم ہے، اس وجہ سے ایسی کمیٹی میں شامل ہونا جائز نہیں، البتہ اگر ہر شخص اپنی مرضی سے رقم دے اور رقم جمع کرنا لازم نہ ہو، تو اس صورت میں گنجائش ہو سکتی ہے۔
2۔کمیٹی (بیسی)کامروجہ طریقہ قرض کے لین دین کامعاملہ ہے جس کا مقصد باہمی تعاون وتناصرہے ،یہ معاملہ مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
بی سی (کمیٹی) میں تمام شرکاء برابر رقم جمع کرائیں، اور انہیں برابر رقم دی جائے اورتمام شرکاءاخیرتک شریک رہیں (ایسانہ ہوکہ جس کی کمیٹی نکلتی جائےوہ بقیہ اقساط سے بری الذمہ ہوتاجائے) اور بولی لگاکر فروخت نہ کی جائے تو اس طرح کی بی سی (کمیٹی) ڈالنا جائزہے۔
اور اگر اس میں غیر شرعی شرائط لگائی جائیں، مثلاً: کسی کو کم، کسی کو زیادہ دینے کی شرط یا بولی لگاکر فروخت کی جائے یا جس کی کمیٹی نکلتی جائے وہ بقیہ اقساط سے بری الذمہ قرار پائے تو یہ صورتیں جائز نہیں ہیں، بعض صورتیں سود اور بعض جوے اور سود کے زمرے میں داخل ہوں گی۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شریک کو ہر وقت بطورِ قرض دی ہوئی اپنی رقم واپس لینے کے مطالبہ کا پورا حق ہو، اس پر جبر نہ ہو۔
فتح القدیرمیں ہے:
"ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم".
(کتاب الصلاة، قبیل باب الشهید، ج: 2، ص: 102، ط: رشیدیه)
مسند أحمد میں ہے:
"عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم (2) ؟ وفي أي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام، قال: " فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه "، ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه۔۔۔۔الخ"
(مسند البصریین، حدیث عم أبي حرة الرقاشي، ج: 34، ص :299، رقم: 20695، ط: مؤسسة الرسالة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في الثواب علي المصيبة، ج: 2، ص: 240، ط: مصطفي البابي الحلبي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: کل قرض جر نفعاً فهو حرام) أی اذا کان مشروطاً."
(كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،فصل في القرض،مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج:5، ص: 166، ط: سعيد)
وفيه ايضاـ:
"(ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) ... (القرض)".
(كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،فصل في القرض، ج:5، ص: 161، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100018
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن