بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے اختلافات اور ان کا حل


سوال

مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں   شریعت میں کیا حکم ہے:

1-بیوی کا  شوہر کے ساتھ ہر بات پر بد تمیزی  اور جھگڑا کرنا ۔

2-شوہر کا بیوی کے ساتھ  بیڈپر سونا    جبکہ جماع نہ کرتا ہو۔

3-بیوی کا شوہر کے  جیب یا والٹ سے اس کی اجازت   کےبغیر پیسے لینا،نیز شوہر کے گھر سے پیسوں کا غائب ہوجانا جب کہ  بیوی کے گھر والوں کے علاوہ کوئی آتاجاتا نہ ہو۔

4-بیوی کا موبائل کو غیر ضروری استعمال کرنا ،اس  پر غیر محرم سے باتیں کرنا ،جب شوہر چیک کرنے کا کہے تو اس کو نہ دینا۔

جواب

1 -واضح رہے   کہ بیوی کا شوہر کے ساتھ  بغیر کسی وجہ کے  بد تمیزی کرنا ، ہربات پہ جھگڑا کرنا،وغیرہ وغیرہ ،جبکہ   شوہر بیوی کےنان نفقہ اور دیگرضروریات کا خیال بھی رکھتا ہو  بلاشبہ جائز نہیں ہے،شریعتِ مطہرہ میں شوہر کی نافرمانی کرنے والی عورت کے بارے میں   سخت وعیدیں آئی ہیں، اور شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرنے والی عورت کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے، شوہر کےحقوق کی اہمیت کے بارے میں  آپ ﷺ   نےارشاد فرمایاکہ اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔

2-شوہر کا بیوی  کے  ساتھ ایک بستر پر سونا  پسندیدہ عمل ہے،لیکن جماع بھی عورت کا حق ہے، بلاوجہ جماع ترک کرنا بھی مناسب عمل نہیں۔

3-شریعت  نے کسی شخص کو دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر  تصرف کو  ناجائز قرار دیا ہے ،چاہے وہ  بیوی کا  شوہر کے مال میں تصرف  کیوں نہ  ہو،البتہ  جب گھر کی ضروریات   (روز مرہ کی اشیائے صرف) لانے یا بچوں کی کوئی معمولی قیمت والی ضرورت کی چیز خریدنے کے لیے شوہر کی طرف سے رقم لینے کی صراحتاً یا عرفاً اجازت ہو، تو بیوی شوہر کے علم میں لائے بغیر  صرف اسی قدر روپے لے سکتی ہے، جتنی کہ ضرورت ہے، اسی طرح اگر ان چیزوں کے لیے بھی شوہر نے اجازت نہیں دی اور بیوی اپنے پاس سے ان چیزوں کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتی، تو بیوی کو بغیر اجازت بھی  بقدرِ ضرورت رقم لے لینے کی گنجائش ہے  ،اس کے علاوہ  اس کی  اجازت   کے بغیر اس کے جیب سے یا والٹ سے پیسے نکالنا شرعا درست نہیں ہے۔

جہاں تک بات ہے شوہر کے گھر سے رقم غائب ہونے کی تو  اس میں  محض شک وشبہ کی بنیاد پر بیوی کو متہم قرار دینا درست نہیں ، میاں ، بیوی دونوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کریں ، آپس میں بد گمانی  سے بچیں،اور طرزِ زندگی ایسا اختیار کریں کہ  جس سے  آپس میں  بداعتمادی اور شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔

4-باقی عورت کا کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے   نامحرم کے ساتھ  ناجائز تعلقات قائم کرنا یقینًا انتہائی قبیح فعل ہے،  اس لئے سائل  اپنی بیوی   کی اصلاح کے لیے مندرجہ ذیل طریقے اختیار   ے:

پہلا درجہ اصلاح کا یہ ہے کہ نرمی سے اس کو سمجھائے ،اگربیوی  محض سمجھانے سے باز نہ آئے۔

 دوسرا درجہ یہ ہے کہ  شوہر اپنا بستر علیحدہ کر دے، تاکہ وہ اس علیحدگی سے شوہر کی ناراضگی  کا احساس کر کے اپنے فعل پر نادم ہو جائے، قرآن کریم میں   (فِي الْمَضَاجِعِ)  کا لفظ  آیا ہے، اس کامطلب  فقہاءِ  کرام  نے  یہ لکھا ہے کہ جدائی صرف بستر میں ہو، مکان کی جدائی نہ کرے کہ عورت کو مکان میں تنہا چھوڑ دے ،اس سےفساد بڑھنے کا اندیشہ   زیادہ ہے۔ 

اور جوعورت  اس سزا  سے بھی متاثر نہ ہو تو  تیسرے درجہ میں  اس کو معمولی مار مارنے کی بھی اجازت ہے، جس سے اس کے بدن پر اثر نہ پڑے، نیز  ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے تک نوبت نہ آئے اور چہرے پر مارنے کو مطلقاً منع کیا گیا ہے۔

اور جہاں تک بات ہے عورت کا موبائل چیک کرنا،تو محض شک کی بنیادپر  ایسا کرنا  درست نہیں ہے ویسے بھی شریعت میں کسی شخص کو دوسرے کی چیز میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کو ناجائز قرار دیا ہے ، ہاں اگر عورت اپنی خوشی سے موبائل چیک کرنے کیلئے  دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ ان پر زبردستی کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا﴾ [الحجرات: ١٢]
ترجمہ: اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچا کرو؛ کیوں کہ بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور سراغ مت لگایا کرو ۔ (بیان القرآن)

دوسری جگہ ہے:

"وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ  فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا  اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا"[النساء: 34]

ترجمہ:’’ اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بد دماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو، اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہ میں تنہا چھوڑ دو، اور ان کو مارو، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کردیں تو ان پر بہانا مت ڈھونڈو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے رفعت اور عظمت والے ہیں۔(بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة ‌أن ‌تسجد ‌لزوجها''. "رواه الترمذي

( كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:972، الرقم:3255، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:’’ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔‘‘(مظاہر حق، 366/3، ط:  دارالاشاعت)

وفیہ ایضا:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ''المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي  أبواب الجنة شاء''. رواه أبو نعيم في الحلية."

( كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:971، الرقم:3254، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:  ’’حضرت انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے  (ادا اور قضا) روزے رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔‘‘(مظاہر حق، 366/3، ط: دارالاشاعت)

وفیہ ایضا:

''وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:''ألا تظلموا ألا ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ إلا بطيب نفس منه''. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى.''

(مشکوۃ المصابیح،ج:3،ص:137،ط:البشری)

"ترجمہ:حضرت ابو حرہ رقاشی رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ   نے فرمایا :خبردار کسی پر ظلم مت کرنا !جان لو!کسی بھی دوسرے شخص کا مال لینا یا استعمال کرنا اسکی مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں ۔(مظاہر حق)"

" شرح النووي على مسلم "میں ہے:

 "والصواب في النوم مع الزوجة أنه إذا لم يكن لواحد منهما عذر في الانفراد فاجتماعهما في فراش واحد أفضل وهو ظاهر فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي واظب عليه مع مواظبته صلى الله عليه وسلم على قيام الليل فينام معها فإذا أراد القيام لوظيفته قام وتركها فيجمع بين وظيفته وقضاءحقها المندوب وعشرتها بالمعروف لاسيما إن عرف من حالها حرصها على هذا ثم إنه لا يلزم من النوم معها الجماع والله أعلم."

(شرح النووي على مسلم، ج:14، ص:60،  ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

مجلة الأحكام العدلية  میں ہے:

" لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ: 97/96، ص: 27، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102245

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں