
میری بیوی اور میری علیحدگی ہو گئی ہے یعنی میں نے اس کو طلاق دی ہے، اس نے عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کر لی ہے، میرے چار بچے اس کے پاس ہیں، بڑا بیٹا بیس سال کا ہے ، دوسرا بیٹا سترہ سال کا ہے ، ایک بیٹی نو سال کی ہے اور چھوٹا بیٹا پانچ سال کا ہے، اس نے ہماری برادری کے علاوہ کسی اور جگہ شادی کر لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مجھے اپنے بچے لینے کا حاصل ہے یا نہیں؟
میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچوں کی پرورش کے حوالہ سے حکم یہ ہے کہ بیٹے کی عمر سات سال اور بیٹی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، البتہ اس دوران اگر والدہ بچوں کے حق میں کسی اجنبی شخص سے شادی کرلے تو پھر اس کی پرورش کا حق ساقط ہوکر یہ حق بچوں کی نانی کو حاصل ہوجاتا ہے،اور اگر نانی نہ ہو تو پھر ان کی پرورش کا حق اس کی دادی کو حاصل ہوتا ہے،اور اگر وہ بھی نہ ہو تو ان کی خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حق حاصل ہوتا ہے، اور بیٹے کی عمر سات سال اور بیٹی کی عمر نو سال ہونے کے بعد ان کی تعلیم وتربیت اور نگہداشت کے لیے والد ان کو اپنے پاس رکھنے کا حق دار ہوتا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل کے سابقہ بیوی نے اگر بچوں کے حق میں کسی اجنبی شخص سے شادی کرلی ہے تو ایسی صورت میں اس کا پانچ سالہ چھوٹے بیٹے کی پرورش کا حق بچے کی نانی کو حاصل ہے، اور نانی نہ ہونے کی صورت میں دادی کو حق ہوگا، اور جس بیٹی کی عمر نو سال ہے، اس کو سائل اپنے کفالت میں لینے کا حق دار ہے۔
باقی سائل كے جو بیٹے بالغ اور سمجھدار ہیں وہ وہ والد یا والدہ میں سے جس کے ساتھ رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں، والد (سائل) اپنے بالغ اور سمجھدار بیٹوں میں سے کسی کو اپنے پاس رہنے پر مجبور نہیں کرسکتا، ہاں اگر والدہ کے پاس رہتے ہوئے ان کے بگڑنے کا خوف اور خطرہ ہو یا کسی اور اخلاقی خرابی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور یہ خوف محض گمان پر مبنی نہ ہو بلکہ یقین یا ظن غالب کے درجہ میں ہو تو والد ان کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها إلا أن يكون له ذو رحم محرم غيرها فحينئذ تجبر على حضانته كي لا يضيع بخلاف الأب حيث يجبر على أخذه إذا امتنع بعد الاستغناء عن الأم كذا في العيني شرح الكنز، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير."
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر فی الحضانة، 1/541، ط: رشیدیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فأحق النساء من ذوات الرحم المحرم بالحضانة الأم؛ لأنه لا أقرب منها ثم أم الأم ثم أم الأب؛ لأن الجدتين وإن استويتا في القرب لكن إحداهما من قبل الأم أولى."
(كتاب الطلاق، فصل فی بیان من له الحضانة، 4/ 41، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية ... (والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار، وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر.
(قوله: والغلام إذا عقل إلخ) ... ثم المراد الغلام البالغ لأن الكلام فيما بعد البلوغ. وعبارة الزيلعي: ثم الغلام إذا بلغ رشيدا فله أن ينفرد إلا أن يكون مفسدا مخوفا عليه إلخ. واحترز عما إذا بلغ معتوها."
(كتاب الطلاق،باب الحضانة، 3 /567-568 ، ط: سعید)
وفیہ أیضاً:
حاصل ما ذكره في الولد إذا بلغ أنه إما أن يكون بكرا مسنة أو ثيبا مأمونة، أو غلاما كذلك فله الخيار وإما أن يكون بكرا شابة، أو يكون ثيبا، أو غلاما غير مأمونين فلا خيار لهم بل يضمهم الأب إليه.
(كتاب الطلاق،باب الحضانة، 3/ 569، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102046
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن