
ہم نے بیٹے کی شادی کرائی، لیکن میری بہو جب سے ہمارے گھر آئی ہے، کچھ ماہ بعد ہی مسلسل ہمارا سارا گھر بہت زیادہ ڈسٹرب چل رہا ہے، وہ کسی بھی طرح بات سمجھنے اور ماننے کو تیار نہیں، میرے بیٹے کو مسلسل تنگ کرتی رہتی ہے، کئی بار ہم نے سمجھایا، ماں باپ کے گھر بھیجا،کئی کئی ماہ وہاں رہی ، لیکن پانچ سال ہو گئے آج تک اسے احساس تک نہیں ہوا، اور خود کہتی ہے کہ مجھے بس ایسے ہی رہنا ہے،میں تمہاری غلام بن کر نہیں رہ سکتی، جب کہ اللہ جانتا ہے کہ ہم نے کبھی اسے کسی بھی اضافی کام کا نہیں کہا، وہ بس اپنا اور اپنے بچے ، اورشوہر کا خیال رکھ لے ہمارے لیے تو یہی بہت ہے، لیکن ہم بہت تنگ ہو گئے ہیں، آپ فرمائیں کہ اس بارے میں کیا کرنا چاہئے!
واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ اگر حسن اخلاق سے نبھایا جائے تو یہ رشتہ کامیاب رہتا ہے ،ضابطہ کی روسے جہاں بہت ساری ذمہ داریاں بیوی پر عائد نہیں ہوتیں وہیں شوہر بھی بہت سے معاملات میں بری الذمہ ہوجاتا ہے ، لیکن حسنِ معاشرت کا تقاضا اور بیوی کی سعادت ونیک بختی اس میں ہے کہ وہ شوہر اور اس کے والدین کی خدمت بجالائے نیزاگر کبھی شوہر کسی خدمت کا حکم دے تو اس صورت میں بیوی پر اس کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے ، شوہرکی خدمت ،تابع داری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمارارشادات موجود ہیں، چناں چہ ایک حدیث میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي."
(مشکاۃ المصابیح، ج:2، ص:281، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمي)
''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اگرمیں کسی کویہ حکم کرتاکہ وہ کسی (غیراللہ)کوسجدہ کرے تومیں یقیناًعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوندکرسجدہ کرے۔"
صاحبِ مظاہرحق اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:
''مطلب یہ ہے کہ رب معبودکے علاوہ اورکسی کوسجدہ کرنادرست نہیں ہے اگرکسی غیراللہ کوسجدہ کرنادرست ہوتاتومیں عورت کوحکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندکوسجدہ کرے،کیوں کہ بیوی پراس کے خاوندکے بہت زیادہ حقوق ہیں،جن کی ادائیگی کرنے سے وہ عاجزہے،گویااس ارشادگرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکیدکوبیان کیاگیاہے کہ بیوی پراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔"
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں بہترین شخص وہ ہے جواپنے اہل(بیوی،بچوں،اقرباء اورخدمت گاروں)کے حق میں بہترین ہو،اورمیں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔"
اسی طرح شادی کے بعد میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے، ا س کے بغیر پرسکون زندگی کاحصول محال ہے، شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کے باہمی حقوق کو بہت اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کے بہت تاکید کی گئی ہے، اس بارے میں چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں:
شوہر کے حقوق:
جو عورت شوہر کی نافرمانی کرے احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت سے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، حدیث مبارک میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح."
(مشکاة المصابیح، باب عشرة النساء، ج:2، ص:280، ط: قدیمي)
ترجمہ: ’’رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔‘‘
(مظاہر حق، ج:3، ص:358، ط: دارالاشاعت)
خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے سے بالاتر سمجھے، اس کی وفادار اور فرماں بردار رہے، اس کی خیرخواہی اور رضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے، اور شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت سمجھے، اس کی قدر اور اس سے محبت کرے، اگر اس سے غلطی ہوجائےتو چشم پوشی سے کام لے، صبروتحمل اور دانش مندی سے اس کی اصلاح کی کوشش کرے، اپنی استطاعت کی حد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔
ان سب کے باوجود بھی اگر شادی کے بعد بھی میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہوجائیں تو دونوں کو چاہیے کہ باہمی رضامندی اور صلح صفائی کے ساتھ آپس کے اختلافات کو ختم کرکے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گذاریں،اگر دونوں کے درمیان بات نہ بنے تو دونوں کے خاندان کے بڑوں کو چاہیے کہ دونوں کے درمیان صلح صفائی کرائیں،اس کے باوجودبھی اگر دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت نہ بنتی ہو اور میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہنا چاہتے ہوں، اور میاں خود سے بیوی کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو طلاق کے لیے راضی کرے، اگر شوہر طلاق پر راضی ہو جائے تو بہتر ، ورنہ بیوی حق مہر کی واپسی یا معافی کے عوض شوہر سے خلع کا مطالبہ کر کے خلع لے لے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب الثالث في الخلع، ج:1، ص:488، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100983
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن