بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی دونوں کا مل ایک قربانی کرنا


سوال

کیا میاں اور بیوی دونوں مل کر ایک قربانی کر سکتے ہیں یا انہیں الگ الگ قربانی کرنی ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مسلمان کے ذمہ  قربانی کرنا واجب ہے ، اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہوں تو ایک  قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی، بلکہ گھر میں رہنے والے ہر صاحبِ نصاب شخص پر الگ الگ قربانی کرنا لازم ہوگی،لہٰذا صورت مسئولہ میں میاں بیوی دونوں صاحب نصاب ہوں تودونوں کو الگ الگ قربانی کرنی ہوگی، البتہ بڑے جانور میں سات افراد مل کر قربانی کرسکتے ہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما قدره فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمةً سمينةً تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد، وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.

فإن قيل: أليس أنه روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته فكيف ضحى بشاة واحدة عن أمته عليه الصلاة والسلام؟

(فالجواب) أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب؛ وهو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته، لا للإجزاء وسقوط التعبد عنهم، ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء."

(بدائع الصنائع، کتاب التضحیة ،ج5،ص70،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101653

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں