بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 صفر 1448ھ 10 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مرزائی کے ساتھ لین دین کرنے کا حکم


سوال

1- میں کپڑوں کا کاروبار کرتا ہوں۔شرعی دکانداری کا طریقہ بتادیں۔

2- ہم فیصل آباد کپڑے لینے جاتے ہیں، تو وہاں دکاندار مرزائی ہیں۔ان کے ساتھ لین دین کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1- واضح رہے کہ دکانداری کا کوئی خاص شرعی طریقہ نہیں ہے،البتہ دکانداری یا کسی بھی تجارت میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس میں شریعت کے اصولوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے،جھوٹ نہ بولا جائے،دھوکہ دہی نہ کی جائے،جھوٹ، خیانت اور دوکہ دہی شرعا حرام ہے،اور اس کی وجہ سے کاروبار میں برکت بھی نہیں رہتی۔

2- واضح رہے کہ عام کفار کے ساتھ اگرچہ بقدر ضرورت معاملات کرنا جائز ہے،لیکن مرزائیوں کا معاملہ عام کفار سے الگ ہے، اور مرزائی مرتد ہیں، اور مسلمانوں کے لیے عام کفار کی بنسبت زیادہ خطرناک ہیں،کیونکہ یہ کفریہ عقائد کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اور اپنے باطل اور فاسد عقائد کی تبلیغ وترویج میں ہمہ وقت لگے رہتے ہیں،ان کے ساتھ معاملات یا تجارت کرنے میں ان کی تقویت بھی ہے، نیز ان کے عقائد بھی مخفی رہ جاتے ہیں،جس سے ایک عام مسلمان ان کو حق پر سمجھنے لگتا ہے، اور اس کے عقائد خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔لہذا مرزائیوں کے ساتھ کسی بھی طرح کا لین دین کرنا جائز نہیں ہے۔

اکفارالملحدین میں ہے:

"وثانیها إجماع الأمة علی تکفیر من خالف الدین المعلوم بالضرورة."

(مجموعة رسائل الکاشمیری، ج:3، ص:81، ط:ادارة القرآن)

الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل (تفسیرِ زمخشری) میں ہے:

"وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِياءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (113)

قرء: ولا تركنوا، بفتح الكاف وضمها مع فتح التاء. وعن أبى عمرو: بكسر التاء وفتح الكاف، على لغة تميم في كسرهم حروف المضارعة إلا الياء في كل ما كان من باب علم يعلم. ونحوه قراءة من قرأ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ بكسر التاء. وقرأ ابن أبى عبلة: ولا تركنوا، على البناء للمفعول، من أركنه إذا أماله، والنهى متناول للانحطاط في هواهم، والانقطاع إليهم، ومصاحبتهم ومجالستهم وزيارتهم ومداهنتهم، والرضا بأعمالهم، والتشبه بهم، والتزيي بزيهم، ومدّ العين إلى زهرتهم. وذكرهم بما فيه تعظيم لهم."

(سورة الهود، رقم الآية:113، ج:2، ص:433، ط:دارالكتاب العربى)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"المرتد اذا باع او اشتری یتوقف ذالك ان قتل علی ردته او مات او لحق بدار الحرب بطل تصرفه و ان اسلم نفذ بیعه."

(الباب الثانى عشر فى أحكام البيع الموقوف، ج:3، ص:359، ط:مکتبه رشیدیه)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101161

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں