بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

میراث میں بہنوں کو حصہ نہ دینا


سوال

پر دادا نے اپنی  بہن کو میراث میں حصہ نہیں دیا تھا، پھر دادا نے بھی اپنی بہن کو میراث میں حصہ نہیں دیا تھا، پھر باپ نے بھی اپنی بہن کو میراث میں حصہ نہیں دیا، اب باپ فوت ہوا تو باپ کے ترکہ میں صرف اپنی بہن کو شرعی حصہ دوں ،یا پہلے دادا کی، پھرباپ کی بہن کو اور بقیہ میں اپنی بہن کو میراث کا حصہ دوں ؟

جواب

واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حق وحصہ ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق وحصہ ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا  خود  تنِ تنہا قبضہ کرلینا اور بہنوں کو  ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے، بھائیوں  پر لازم ہے  کہ بہنوں کو ان کا حق وحصہ  اس دنیا میں دے دیں ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا ، حدیثِ مبارک میں اس پر  بڑی وعیدیں آئی ہیں ، حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی،  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے  ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کے لیے والد کے  ترکہ میں سے اپنی بہنوں کو   حصہ دینا ضروری ہے ،باقی  سائل کے داد کی میراث میں ان کے بیٹوں نے اپنی بہنوں کو  میراث میں حصہ نہیں دیا تھا  تو ان تمام ورثاء پر اپنی بہنوں کا حصہ واپس کرنا ضروری ہے ،سائل کے والد کی طرف ان کی  بہنوں(سائل کی پھوپھیوں ) کا جو  حصہ آیا  ہے ،وہ سائل ان کو ادا کردے ،یہی حکم سائل کے  پردادا اور ان سے اوپر کے تمام مورث اور ان  کے ورثاء کے لیے ہے ۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»". (مشكاة المصابيح، 1/254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

 وفیہ ایضاً: 

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".  (1/266، باب الوصایا، الفصل الثالث،  ط: قدیمی)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144208201381

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں