
بکر کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ تین بیٹے، دو بیٹیاں تھیں، والدین انتقال کرچکے تھے، پھر بیوہ کا انتقال ہوا، ورثاء میں تین بیٹے، دو بیٹیاں تھیں، والدین کا انتقال ہوچکا تھا، بکر کے ترکہ میں ایک مکان تھا، تین بھائیوں میں سے ایک بھائی کا دوسرے کے ذمے قرض تھا، اس نے کہا جو میرا وراثت کا حصہ بنے گا، اس کو قرض میں برابر کرلو، پھر دو بھائیوں نے مکان کو آدھا آدھا تقسیم کرلیا اور بہنوں میں سےایک ایک بہن کا حصہ اپنے ذمہ لے لیا، ایک بھائی نے اپنے حصے کی قیمت لگا کر اسی وقت ایک بہن کو حصہ دے دیا، دوسرے بھائی نے اب تک حصہ نہیں دیا، اگر وہ بھائی حصہ دینا چاہے، تو موجودہ قیمت کے اعتبار سے دے گایا گزشتہ قیمت کے اعتبار سے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مکان میں اس وقت باہمی رضامندی سے بہنوں کے حصوں کی قیمت متعین کرلی تھی اور آئندہ مستقبل میں اس قیمت کی ادائیگی کی مدت متعین ہوچکی تھی، تو اب جس بہن کو ادائیگی کی جارہی ہے، تو اسی متعین قیمت کے اعتبار سے ادائیگی کی جائے گی اور اگر اس وقت باہمی رضامندی سے کوئی قیمت متعین نہیں کی تھی، یا قیمت تو متعین کی تھی لیکن ادائیگی کی مدت اور اس کا شیڈول طے نہیں کیا تھا،تو پھر موجودہ قیمت کے حساب سے ان کے حصے کی ادائیگی بھائی پر لازم ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم."
(كتاب الصلح، ج:5، ص:644، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101134
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن