
میری پھوپھی کا جنوری میں انتقال ہوا ، ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تھی، ان کی اولاد نہیں ہے۔
اور ان کے شوہر کا ان سے پہلے انتقال ہوچکا تھا۔
اب ان کے بھائیوں میں سے ایک بھائی اور بہنوں میں سے ایک بہن حیات ہیں، ان کے دو بھائیوں کا ان کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ میری پھوپھی کی ملکیت میں جو نقد رقم یا سونا ہے اس کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ کیا وہ بھائی جن کا پھوپھی سے پہلے انتقال ہوگیا ہے ان کو حصہ ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، مرحومہ پر اگر قرض ہو تو قرض ادا کرنے کے بعد، مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے بعد ، بقیہ مال کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اس میں سے زندہ بھائی کو 2 حصےاور زندہ بہن کو 1 حصہ ملے گا۔صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت: 3
| بھائی | بہن |
| 2 | 1 |
یعنی مرحومہ کے زندہ بھائی کو 66.66 فیصد اور زندہ بہن کو 33.33 فیصد ملے گا۔
مرحومہ کے وہ بھائی جو مرحومہ کی زندگی میں انتقال کر گئے تھے ، وہ اور ان کی اولاد مرحومہ کے ترکہ میں شرعاً حصہ دار نہیں ۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101558
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن