بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بھائی اور ایک بہن میں وراثت کی تقسیم


سوال

میری پھوپھی کا جنوری میں انتقال ہوا ، ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تھی، ان  کی اولاد نہیں ہے۔

اور ان کے شوہر کا ان سے پہلے انتقال ہوچکا تھا۔

اب ان کے بھائیوں میں سے ایک بھائی اور بہنوں میں سے ایک بہن حیات ہیں، ان  کے دو بھائیوں کا ان کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ میری پھوپھی کی ملکیت میں جو نقد رقم یا سونا ہے اس کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ کیا وہ بھائی جن کا پھوپھی سے پہلے انتقال ہوگیا ہے ان کو حصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، مرحومہ پر اگر قرض ہو تو قرض ادا کرنے کے بعد، مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے بعد ، بقیہ مال کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اس میں سے  زندہ بھائی کو 2 حصےاور زندہ بہن کو 1 حصہ ملے گا۔صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: 3

بھائیبہن
21

یعنی مرحومہ کے  زندہ بھائی کو 66.66 فیصد اور زندہ بہن کو 33.33 فیصد ملے گا۔

مرحومہ کے وہ بھائی جو مرحومہ کی زندگی میں انتقال کر گئے تھے ، وہ اور ان کی اولاد مرحومہ کے ترکہ میں شرعاً حصہ دار نہیں ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں